کے ای ایم اسپتال کے ڈین نے انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دی۔ شیوسینا(یوبی ٹی) کااحتجاج
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 4:32 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
کے ای ایم اسپتال کے ڈین نے انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دی۔ شیوسینا(یوبی ٹی) کااحتجاج
کے ای ایم اسپتال کی ایم بی بی ایس کی تیسرے سال کی طالبہ ڈاکٹر سیجل پوار کے خلاف عطیہ کردہ جسم سے متعلق قابل اعتراض بیان پر مہاراشٹر سائبر پولیس میں کیس درج کرلیا گیا ہے۔ کے ای ایم اسپتال کے ڈین نے معاملہ کی تحقیقات کیلئے ۲؍رکنی ٹیم تشکیل دی ہے اور ان کے بیان کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم مارڈز نے بھی خود کو اس متنازع بیان سے علاحدہ کرلیا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر سیجل نے اپنے بیان پر معذرت طلب کی ہے، اس کے باوجود شیوسینا (یوبی ٹی ) کی لیڈر کیشوری پیڈنیکر نے جمعہ کو کےای ایم اسپتا ل کےڈین کے آفس کے سامنے احتجاج کیا۔ واضح رہے کہ بگ باس فیم پرنیت مور ےکے کامیڈی شو میں سامعین کے ساتھ بات چیت کے دوران سیجل پوار نے عطیہ کردہ مروں کے جسم سے متعلق قابل اعتراض بیان دیا تھا جس پرسخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔
مہاراشٹر اسوسی ایشن آف ریسیڈنٹ ڈاکٹرز (مارڈز) کے ای ایم نے واضح کیا کہ سیجل پوار اسوسی ایشن کی رکن نہیں ہیں ۔ انہوں نے جو کہا ہے، وہ طبی پیشے کے وقار اور اخلاقی معیار کو نقصان پہنچانے والا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے میں مساجد و دیگر عبادت گاہوں کے انہدام پر اسٹے
کے ای ایم اسپتال کے ڈین ڈاکٹر ہریش پاٹھک نے بھی اس تعلق سے کہا ہے کہ ’’ سیجل پوار کے بیان سے پیدا ہونے والے تنازع کی تحقیقات کیلئے ۲؍ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سیجل پوار کا بیان ناقابل قبول ہے۔ طبی تعلیم کیلئے عطیہ کئے گئے جسموں کے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اس کی انتہائی سنجیدگی سے جانچ کی جائے گی۔ ہم مرنے والوں کے احترام کے تعلق سے بہت حساس ہیں۔ چونکہ لاشیں طبی تعلیم کیلئے بڑے جذباتی انداز میں عطیہ کی جاتی ہیں۔ ہم نے ۲؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس معاملہ کی انکوائری کرے گی جس کی رپورٹ پر سیجل پوار کےخلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ اسپتال کے حکام نے واضح کیا ہے کہ سیجل پوار کے خلاف ابھی تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور ان کی معطلی کا دعویٰ کرنے والی خبریں غلط ہیں ۔
مہاراشٹر سائبر پولیس نے جمعرات کو ڈاکٹر سیجل پوار کے خلاف حال ہی میں گروگرام میں ایک شو کے دوران مبینہ طور پر فحش تبصرے کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ انہیں مہاراشٹر سائبر کے سامنے انکوائری کیلئے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دریں اثناء ڈاکٹرسیجل پوارنے اس معاملہ میں معذرت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں سمجھ رہی ہوں کہ عوام کومیری کس بات سے تکلیف پہنچی ہے اور لوگ کیوں ناراض ہیں۔ میں یہاں جو کچھ کہا گیا تھا، اس کا جواز پیش کرنے یا اس کی وضاحت کیلئے نہیں آئی ہوں۔ ‘‘دریں اثناء جمعہ کو شیوسینا (یوبی ٹی) کے وفدنے ڈین سےملاقات کر کے ڈاکٹر پر سخت کارروائی کامطالبہ کیا۔