۳۵۰ ؍ کنویں دوبارہ قابل استعمال بنائے جائیں گے۔ آج بھی گرمی کا یلو الرٹ۔ گرمی میں اضافہ سے لوگ بے حال۔ بارش کا شدت سے انتظار۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 4:33 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
۳۵۰ ؍ کنویں دوبارہ قابل استعمال بنائے جائیں گے۔ آج بھی گرمی کا یلو الرٹ۔ گرمی میں اضافہ سے لوگ بے حال۔ بارش کا شدت سے انتظار۔
جھیلوں میں محض ۱۲ء۱۲ ؍ فیصد پانی ذخیرہ ہے اور امسال بارش بھی معمول سے کم ہونے کا اندیشہ ہے جس کے پیش نظر بی ایم سی نے شہر و مضافات میں واقع ۳۵۰ ؍ کنویں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کم بارش کے علاوہ موسم باراں کی آمد میں تاخیر بھی ہو چکی ہے۔ ایسے میں شہریوں کی پانی کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے احتیاطی لائحہ عمل کے طور پر ممبئی کے تمام ۲۶ ؍بی ایم سی وارڈوں کے سربراہ ایڈیشنل میونسپل کمشنروں کو جمعرات کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں واقع کنوؤں کو قابل استعمال بنائیں۔
ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی جھیلوں میں پانی کی سطح نہ صرف روزانہ پانی سپلائی کی وجہ سے کم ہورہی ہے بلکہ اس مرتبہ شدید گرمی کے سبب پانی بھاپ بن کر اڑنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے جس کی وجہ سے دن بہ دن پانی کے تعلق سے حالات تشویشناک ہوتے جارہے ہیں۔ حالانکہ ممبئی کا ریکارڈ رہا ہے کہ عام طور پر یہاں جولائی کی بارش سے جھیلیں زیادہ بھرتی ہیں۔ تاہم رواں ماہ میں اب تک سانتا کروز کی محکمہ موسمیات کی مشاہدہ گاہ میں محض ۱۲ء۹ ؍ملی میٹر بارش درج کی گئی ہے جو جون کی معمول کی بارش کے مقابلے بہت کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے میں مساجد و دیگر عبادت گاہوں کے انہدام پر اسٹے
واضح رہے کہ ممبئی میں ہر سال جون میں اوسطاً ۵۲۶ ؍ ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ اس سے قبل ممبئی میں جون میں اتنی کم بارش ۲۰۱۴ ءمیں ہوئی تھی جب پورے مہینے میں محض ۸۷ ؍ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ ۲۰۱۴ ءکا کم بارش کا یہ تقریباً ۶ ؍ دہائیوں کا ریکارڈ تھا۔
جمعرات کو بی ایم سی کمشنر کی شہری انتظامیہ کے مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ماہانہ میٹنگ کے دوران جھیلوں میں پانی کی گھٹتی سطح کا مسئلہ زیربحث آیا تھا جس پر میونسپل کمشنر اشوینی بھیڈے نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے وارڈ میں واقع تمام روایتی کنوؤں کا فوری طور پر جائزہ لیں، ان کی صفائی کرائیں اور بارش سے ان میں پانی کی سطح بہتر ہو، اس کے انتظامات کریں۔
بی ایم سی کے ہائیڈرولک ڈپارٹمنٹ کے انجینئر دلیپ پاٹل کے مطابق کنویں کے پانی کو باغات اور دھلائی جیسے کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کھلے روایتی کنویں بورویل اور ٹیوب ویل سے مختلف ہوتے ہیں اور کھلے کنوؤں میں پانی موجود رہتا ہے لیکن اس کے پانی کو استعمال کرنے کیلئے پہلے اس سے کوڑاکرکٹ وغیرہ صاف کرنا پڑتا ہے۔
اگرچہ امسال جھیلوں میں پانی کی سطح گزشتہ دو برسوں کے مقابلے زیادہ ہے لیکن بارش کی صورتحال اس سال زیادہ خراب ہے۔ پانی سپلائی کی سب سے اہم جھیل موڈک ساگر میں ۳۲ ؍ فیصد پانی بچا ہے، رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑی جھیل ہے۔ بھاتسا میں ۱۱ء۳۳ فیصد پانی ہے۔ وہار لیک میں ۴۳ء۳۶، تلسی میں ۲۴ء۶۶، مڈل ویترنا میں ۱۴ء۴۸ ؍اور تانسا میں ۷ء۱۵؍ فیصد پانی ذخیرہ ہے۔ تاہم مجموعی طور پر سپلائی کیلئے محض ۱۲ء۱۲ ؍ فیصد پانی دستیاب ہے۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں سے اپر ویترنا میں سپلائی کرنے کیلئے پانی دستیاب نہیں ہے۔