ریاست میں فرضی دوا ساز کمپنیوں میں اضافے کےسبب ریاستی حکومت نے ان کی دواؤں کی مکمل جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیلئے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے تجربہ کار افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 4:32 PM IST | Mumbai
ریاست میں فرضی دوا ساز کمپنیوں میں اضافے کےسبب ریاستی حکومت نے ان کی دواؤں کی مکمل جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیلئے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے تجربہ کار افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
ریاست میں فرضی دوا ساز کمپنیوں میں اضافے کےسبب ریاستی حکومت نے ان کی دواؤں کی مکمل جانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیلئے ریاستی حکومت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے تجربہ کار افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
ریاست میں فرضی کمپنیوں کے تعلق سے قانون ساز کونسل کے رکن امباداس دانوے کی طرف سے پیش کی گئی تجویز پر ایوان میں بحث ہوئی تھی۔ اس وقت فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے وزیر نرہری جروال نے اس سلسلے میں ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی کے تحت ریاستی حکومت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
فرضی فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی تحقیقات کیلئے ڈی سی پی سطح کے ویجیلنس افسران کے ذریعے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے تجربہ کار افسران کو اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ۳؍ رکنی کمیٹی ہے۔ جوائنٹ کمشنر (ویجیلنس)، فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، ہیڈ کوارٹرز کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ جوائنٹ کمشنر (ڈرگس) بطور ممبر کام کریں گے اور اسسٹنٹ کمشنر (ڈرگس) کو ممبر سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان اور ڈومبیولی میں ۲۰؍ فیصد پانی کٹوتی کا فیصلہ
یہ کمیٹی ریاست میں فرضی دوا ساز کمپنیوں کی نشاندہی اور ان کی دواؤں کا معائنہ کرے گی۔ خاص طور پر متعلقہ ادویات میں موجود اجزاء کی سائنسی طور پر تصدیق کی جائے گی۔ معائنہ کے بعد قصوروار پائی جانے والی کمپنیوں یا اداروں کے خلاف حکومت کے قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی کو ۳۰؍دن میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
توقع کی جارہی ہے کہ اس سے جعلی ادویات کی تیاری کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ریاست کے شہریوں کی صحت سے براہ راست جڑے اس معاملے پر حکومت کی طرف سے لیا گیا یہ فیصلہ اہم مانا جا رہا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ کارروائی فرضی ادویات کے استعمال سے ہونے والے مضر اثرات کی روک تھام اور فارماسیوٹیکل سیکٹر میں شفافیت بڑھانے میں کارگر ثابت ہو گی۔