Updated: November 04, 2026, 10:07 PM IST
| Melbourne
مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی شخص کی حقیقی تصویر کے بغیر بھی اس کی جعلی جنسی یا فحش تصویر تیار کرکے اسے بدنام کیا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے ۷؍ ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر ۱۵؍ میں سے ایک بالغ شخص اے آئی سے تیار کردہ جنسی تصاویر کے غلط استعمال کا شکار ہوا، جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد نے اپنی صحت، تعلقات، ملازمت یا مالی زندگی پر اس کے منفی اثرات کی اطلاع دی۔
سی جے رے (بائیں)۔ تصویر: آئی این این
مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی شخص کی غیر فحش تصویر، مثلاً سوشل میڈیا پروفائل یا عام پورٹریٹ کو استعمال کرکے اس کی جعلی جنسی تصویر تیار کرنا اب ایک سنگین ڈجیٹل مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی (RMIT University) کی قیادت میں ہونے والی تحقیق نے اس خطرے کی وسعت سامنے لائی ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے مجموعی طور پر ۷۲۳۰؍ بالغ افراد پر کیے گئے سروے میں ۷؍ فیصد شرکاء نے بتایا کہ ۱۸؍ سال کی عمر کے بعد وہ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے ذریعے جنسی نوعیت کے استحصال کا شکار ہوئے۔ یہ تناسب تقریباً ہر ۱۵؍ میں سے ایک بالغ شخص کے برابر ہے۔ تحقیق میں اس استحصال کی مختلف صورتوں کو شامل کیا گیا۔ ان میں کسی کی رضامندی کے بغیر اے آئی کی مدد سے اس کی عریاں یا جنسی نوعیت کی تصویر بنانا، حقیقی تصویر میں ڈجیٹل تبدیلی کرکے اسے فحش شکل دینا، ایسی مصنوعی تصویر کو آن لائن شیئر کرنا یا اسے پھیلانے کی دھمکی دینا شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ شخص کی کوئی حقیقی فحش تصویر موجود ہونا ضروری نہیں؛ عام تصاویر اور دستیاب ڈجیٹل مواد کو بھی غلط طریقے سے استعمال کرکے کسی کی جعلی جنسی تصویر تیار کی جا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس استحصال کا سامنا کرنے والے تقریباً ۸۷؍ فیصد افراد نے اپنی زندگی کے کم از کم ایک شعبے پر منفی اثرات کی اطلاع دی۔ ان اثرات میں ذہنی یا جسمانی صحت اور مجموعی فلاح و بہبود متاثر ہونا، ذاتی تعلقات میں مشکلات، ملازمت یا پیشہ ورانہ زندگی کو نقصان پہنچنا اور مالی مسائل شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسی تصاویر کا معاملہ محض انٹرنیٹ پر کسی جعلی تصویر کی موجودگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات متاثرہ شخص کی حقیقی زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔ تحقیق میں مردوں اور خواتین کے درمیان متاثر ہونے کی شرح میں نمایاں فرق بھی سامنے آیا۔ مردوں میں ۲ء۱۰؍ فیصد نے اے آئی سے تیار کردہ جنسی تصاویر کے غلط استعمال کا تجربہ رپورٹ کیا، جبکہ خواتین میں یہ شرح ۸ء۳؍ فیصد رہی۔ یعنی سروے میں مردوں کی متاثر ہونے کی شرح خواتین کے مقابلے میں ۲؍ گنا ے بھی زیادہ تھی۔ تاہم اس کے برعکس خواتین نے ایسے واقعات کے بعد زیادہ شدید منفی اثرات کی اطلاع دی۔ ان میں اپنی حفاظت کے بارے میں خوف، ذہنی دباؤ اور جسمانی و نفسیاتی صحت سے متعلق مسائل شامل تھے۔ محققین کے مطابق اس فرق کو معاشرے میں موجود صنفی عدم مساوات، بدنامی کے خوف اور خواتین کو درپیش اضافی حفاظتی خطرات کے تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں ۳۵؍ سال سے کم عمر افراد، نسلی اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور معذوری کے حامل لوگوں میں بھی متاثر ہونے کی شرح نسبتاً زیادہ پائی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ جنسی تصاویر کا استحصال صرف مشہور شخصیات یا عوامی زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تک محدود نہیں رہا، بلکہ عام شہری بھی اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ اور آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی پروفیسر نکولا ہنری نے کہا کہ اب اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ یہ مسئلہ پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے، نہ کہ صرف معروف شخصیات کو۔ ان کے مطابق حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بعض افراد کو شاید کبھی معلوم ہی نہ ہو کہ ان کی مصنوعی تصاویر بنائی یا شیئر کی گئی ہیں۔ اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ محققین نے صرف متاثرین کے تجربات کا جائزہ نہیں لیا بلکہ اسی بین الاقوامی تحقیقی منصوبے کے تحت اے آئی سے تیار کردہ جنسی تصاویر بنانے اور استعمال کرنے کے رجحان کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ ایک سابقہ تحقیق میں ۷۲۳۱؍ افراد میں سے ۲ء۳؍ فیصد نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے کسی کی رضامندی کے بغیر ایسی تصاویر بنائی، شیئر کیں یا انہیں پھیلانے کی دھمکی دی۔ اس مواد کو شیئر کرنے والوں میں سب سے عام بیان کردہ وجہ ’’تفریح یا مذاق‘‘ تھی۔ ایک دوسری تحقیق میں تقریباً ہر ۵؍ میں سے ایک بالغ شخص نے حقیقی افراد کی اے آئی سے تیار کردہ جنسی تصاویر جان بوجھ کر دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم ان اعداد و شمار میں ایسے افراد کو شامل نہیں کیا گیا جنہوں نے یہ مواد صرف اس کی رپورٹ کرنے یا اسے ہٹوانے کے مقصد سے دیکھا تھا۔
پروفیسر نکولا ہنری کے مطابق اے آئی ٹولز کی آسان دستیابی اور ان کے استعمال میں تکنیکی رکاوٹیں کم ہونے کے باعث اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ نقصان ہونے کے بعد صرف شکایات نمٹانے کے بجائے اپنے پلیٹ فارمز اور اے آئی مصنوعات میں پہلے سے حفاظتی انتظامات شامل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں زیرِ غور ڈجیٹل ڈیوٹی آف کیئر (Digital Duty of Care) جیسے ضوابط آن لائن سروسز کو ممکنہ نقصانات کی روک تھام کی ذمہ داری دینے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم قانون سازی کے ساتھ عوامی آگاہی، ڈجیٹل تعلیم اور متاثرین کے لیے آسان اور مؤثر مدد بھی ضروری ہے۔ یہ تحقیق ۴؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی نے جاری کی۔ اس کے نتائج سائنسی جریدے ’انٹرنیشنل جرنل آف ہیومن کمپیوٹر انٹریکشن‘ (International Journal of Human-Computer Interaction) میں شائع ہونے والے مقالے پر مبنی ہیں۔ تحقیق کو گوگل کی مالی معاونت حاصل تھی اور اس کے شریک مصنفین میں گوگل سے وابستہ محققین بھی شامل تھے؛ مقالے میں اس مالی تعاون اور مصنفین کی وابستگی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ محققین نے واضح کیا ہے کہ سروے میں صرف وہ واقعات شمار ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں متاثرہ افراد کو علم تھا اور جنہیں انہوں نے بیان کیا، اس لیے اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان موجود ہے۔