Updated: April 17, 2026, 5:10 PM IST
| Beirut
لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی دس روزہ جنگ بندی نافذ العمل ہو گئی ہے، تاہم لبنانی عوام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو پر بھروسہ نہیںکیا جاسکتا،جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے لیڈروںکے درمیان پہلی بار براہِ راست ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی دس روزہ جنگ بندی نافذ العمل ہو گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے لیڈروںکے درمیان پہلی بار براہِ راست ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم بیروت کے شہریوں نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پرعدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس نے۲۰۲۴ء میں طے پانے والی گزشتہ جنگ بندی کی تقریباً روزانہخلاف ورزی کی تھی۔ لبنانی فوج نے کہا کہ اسرائیل نے جمعہ کے اوائل میں لبنان کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی کی پہلی خلاف ورزیاں کیں، اور جنوبی علاقوں کے شہریوں سے اسرائیلی جارحیت کی متعدد کارروائیوں کی روشنی میں احتیاط برتنے کی اپیل کی۔یہ جنگ بندی اس وقت عمل میں آئی جب واشنگٹن ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ ختم کرنے کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے، اور تہران کا اصرار ہے کہ لبنان کی جنگ بندی کسی بھی معاہدے کا حصہ ہونی چاہیے۔ بعد ازاں جنگ بندی کے نافذ ہوتے ہی بیروت کے جنوبی مضافات (حزب اللہ کا گڑھ) میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں ، جو بظاہر بے ساختہ خوشی کا اظہار تھا، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم شہریوں نے اس جنگ بندی پر خوشی کے نیتن یاہو پر شک کا اظہار بھی کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ناکامیوں نے انہیں جنگ بندی پر مجبور کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی ہائی کورٹ میں انتہا پسند وزیربین گویرکی برطرفی کی درخواست پر سماعت شروع
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر حملہ کیا، اور لبنان اس وقت اس میں شامل ہو گیا جب حزب اللہ نے۲؍ مارچ کو اسرائیل پر راکٹ داغے۔اس کے بعد سے، لبنان میں اسرائیلی حملوں اور جنوبی علاقوں پر قبضے کے نتیجے میں ۲؍ ہزارسے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوگئے۔ علاوہ ازیںامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا،’’ اسرائیلی اور لبنانی لیڈروں نے اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لیے باضابطہ طور پر۱۰؍ روزہ جنگ بندی شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ‘‘ انہوں نے بعد میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ نتن یاہو اور عون اگلے چار یا پانچ دنوں میںوہائٹ ہاؤس جائیں گے۔
لبنان اور اسرائیلی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطحی براہِ راست ملاقات خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہوگی۔لبنان کی وزارت صحت نے جمعرات کو کہا کہ جنوبی لبنانی قصبے غازیہ پر اسرائیلی حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور۳۳؍ زخمی ہوئے۔ٹرمپ نے کہا کہ حزب اللہ کو جنگ بندی میں شامل کیا گیا ہے، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، جنگ بندی کے تحت لبنان خود اس تنظیم کو ختم کرنے کا پابند ہے۔تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور واضح طور پر تمام فریقین سے اس کی مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ، اس فقرے میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔ جبکہ حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر اسرائیل حملے بند کر دے تو وہ محتاط انداز میں جنگ بندی کی پابندی کریں گے۔ساتھ ہی ابراہیم الموسوی نے ایران کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے لبنان کے حق میں دباؤ ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: پولینڈ: غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت، یوکرین پر سخت مؤقف برقرار
دوسری جانب نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی پر متفق ہے لیکن جنوبی لبنان میں سرحد کے ساتھ ۱۰؍کلومیٹر کا ’’حفاظتی زون برقرار رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے لیے دو شرائط رکھی ہیں: حزب اللہکو غیر مسلح کرنا، اور ’’ بزور دیرپا امن معاہدہ۔
لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔جنگ بندی سے قبل، عون کے دفتر نے ٹرمپ کا ان کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔ٹرمپ نے بھی کہا کہ’’ انہیں امید ہے کہ حزب اللہ۱۰؍ روزہ جنگ بندی کے دوران اچھے اور مناسب طریقے سے عمل کرے گا۔‘‘ جبکہ یہ جنگ بندی ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے معاہدے تک پہنچنے کی جاری کوششوں کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بہت قریب ہے اور وہ کسی بھی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں۔