Updated: February 20, 2026, 2:02 PM IST
| Damascus
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے شام سے اپنی تمام فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے،یہ انخلادو ماہ میں مکمل ہونے کا امکان ہے،اس تعلق سے امریکہ کا موقف ہے کہ شام میں دہشت گرد تنظیمیں ختم ہو چکی ہیں، ساتھ ہی انسداد دہشتگردی میں شام کے کردار میں اضافہ کا اعلان کیا۔
بدھ کو آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے شام سے اپنی باقی ماندہ فوجیں، جن کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے، واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انخلا پچھلے کئی مہینوں میں بتدریج کمی کے بعد کیا جا رہا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ یہ انخلا اگلے دو ماہ کے دوران متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ واشنگٹن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شام میں امریکی فوجی موجودگی کی اب ضرورت نہیں رہی۔ اس حوالے سے وائی پی جی/ایس ڈی ایف کے قریباً مکمل طور پر ختم ہونے اور اس کے بعد شامی ریاستی ڈھانچے میں انضمام کو بنیاد بنایا گیا، جس سے مقامی شراکت داروں کے ذریعے داعش سے لڑنے کا امریکی مشن عملی طور پر ختم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران کو ہرصورت جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکے گا: امریکی وزیر توانائی
دریں اثناء رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج اس ماہ کے اوائل میں ہی شام، اردن اور عراق کی سرحدوں کے قریب واقع اہم چوکی التنف گیریژن اور شمال مشرقی شام میں الشدادی اڈے سے اپنا انخلا مکمل کر چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق، یہ انخلا مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری اور فضائی تعیناتی سے منسلک نہیں ہے، جو جوہری مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں ایران پر ممکنہ حملوں کے لیے کی گئی ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی فضائی حملے کے جواب میں خطے میں امریکی فوجوں کو نشانہ بنائے گا۔ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا کہ انخلا اس وقت جاری ہے جب شامی حکومت انسداد دہشت گردی کی کوشش کر رہی ہے، اور یہ بھی کہا کہ امریکی فوجیں داعش کے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن پالیسیوں پر ٹرمپ کی عوامی حمایت میں ریکارڈ کمی، ۳۸؍ فیصد رہ گئی
بعد ازاں وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، بعض امریکی اور غیر ملکی عہدیداروں نے خبردار کیا کہ امریکی موجودگی میں کمی جنگ بندی کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے اور داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتی ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ فوجیں بنیادی طور پر ایک سیاسی اشارے کے طور پر کام کر رہی تھیں نہ کہ انسداد دہشت گردی کی موثر فورس کے طور پر۔