Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانز ۲۶ء: پیڈرو الموڈوور کی ٹرمپ پر تنقید، خاموشی کو جمہوریت کیلئے خطرہ قرار دیا

Updated: May 21, 2026, 8:04 PM IST | Cannes

معروف ہسپانوی فلم ساز پیڈرو الموڈوور نے کانز فلم فیسٹیول میں اپنی نئی فلم ’’بٹر کرسمس‘‘ کے پریمیئر کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بڑھتی ہوئی سینسر شپ پر سخت تنقید کی۔ الموڈوور نے کہا کہ فنکاروں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ سیاسی اور انسانی مسائل پر کھل کر بات کریں، کیونکہ خاموشی جمہوریت کے زوال کی علامت ہے۔ ریڈ کارپٹ پر ’’فری فلسطین‘‘ پن پہننے والے ہدایت کار نے غزہ کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ یورپ کو کبھی بھی ٹرمپ کے سامنے ’’جھکنا‘‘ نہیں چاہیے۔ ان کی نئی فلم کو کانز میں ساڑھے چھ منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی۔

Pedro Almodovar. Photo: INN
پیڈرو الموڈوور۔ تصویر: آئی این این

عالمی شہرت یافتہ ہسپانوی فلم ڈائریکر، اسکرین رائٹر اور مصنف پیڈرو الموڈوور نے کانز فلم فیسٹیول میں سیاسی خاموشی، سینسر شپ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کو کبھی بھی ٹرمپ کے سامنے ’’ہتھیار نہیں ڈالنا‘‘ چاہیے۔ ان کے یہ ریمارکس ان کی نئی فلم ’’بٹر کرسمس‘‘ کے پریمیر کے دوران سامنے آئے، جسے کانز میں شاندار پذیرائی حاصل ہوئی اور حاضرین نے تقریباً ساڑھے چھ منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ ورائٹی کی رپورٹ کے مطابق ۷۶؍ سالہ فلم ساز نے فلم کے گالا پریمیر کے دوران ریڈ کارپٹ پر ’’فری فلسطین‘‘ کا پن بھی پہنا، جس نے عالمی میڈیا اور حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ کانز میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران الموڈوور نے عصری سیاسی ماحول، اظہار رائے کی آزادی اور فنکاروں کی ذمہ داری پر تفصیل سے گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھئے : آیوشمان کھرانہ کی فلم کی کمائی میں گراوٹ،جنوبی ہند کے آگے پھیکی پڑی بالی ووڈ کی کامیڈی فلم

بین الاقوامی سطح پر سراہے جانے والے فلم ساز، جو ’’پین اینڈ گلوری‘‘، ’’والور‘‘ اور ’’آل اباؤٹ مائی مدر‘‘ جیسی مشہور فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں، نے کہا کہ فنکاروں کے لیے موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر خاموش رہنا خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں کسی پر ذاتی طور پر الزام نہیں لگانا چاہتا، لیکن میرا ماننا ہے کہ فنکاروں کو اس صورتحال کے بارے میں بات کرنی چاہیے جس میں وہ آج کے معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ یہ ایک اخلاقی فرض ہے۔‘‘ پیڈرو الموڈوور نے مزید کہا کہ خاموشی اور خوف دراصل جمہوریت کے کمزور ہونے کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق، اگر تخلیق کار بولنا بند کر دیں یا خود کو سینسر کرنے لگیں تو یہ معاشرے کے لیے انتہائی تشویشناک اشارہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : کانز ۲۰۲۶ء: ہما قریشی نے خواتین پر مبنی فلموں کے بجٹ پر سوال اٹھایا

انہوں نے کہا کہ ’’خاموشی اور خوف اس بات کی علامت ہیں کہ حالات خراب سمت میں جا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا سنگین اشارہ ہے کہ جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ تخلیق کاروں کو بولنا چاہیے، کیونکہ سب سے خطرناک چیز خاموشی یا سینسر شپ ہے۔ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آواز بلند کریں۔‘‘ ہدایت کار نے اس سے قبل لاس اینجلس ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی امریکی فلم انڈسٹری پر تنقید کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ حالیہ آسکر تقریب میں جنگ، فلسطین یا ٹرمپ کے خلاف زیادہ واضح سیاسی ردعمل نہ دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ، ’’آسکر کی تقریب دیکھنا کافی حیران کن تھا کیونکہ وہاں جنگ یا ٹرمپ کے خلاف زیادہ آوازیں سنائی نہیں دیں۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سیاسی مؤقف اختیار کرنے سے ان کے کریئر کو نقصان پہنچنے کا خوف موجود ہے، تو الموڈوور نے صاف الفاظ میں اس امکان کو مسترد کر دیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Festival de Cannes (@festivaldecannes)

انہوں نے جواب دیا، ’’بالکل نہیں۔ مجھے اس قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا۔ اسپین میں عمومی طور پر لوگ چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارنے سے نہیں ڈرتے۔‘‘ ہدایت کار نے غزہ کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ اسپین کی حکومت کھل کر غزہ میں ہونے والے واقعات کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دے چکی ہے، جبکہ ہسپانوی عوام بھی ان مسائل پر اپنی رائے ظاہر کرنے سے نہیں گھبراتے۔

یہ بھی پڑھئے : کنال کھیمو کی ’’وائب‘‘ کا اعلان، پریتی زنٹا کی ۸؍ سال بعد پردہ سیمیں پر واپسی

پیڈرو الموڈوور کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں فنکاروں، فلم سازوں اور اداکاروں کی جانب سے فلسطین، جنگ اور سیاسی آزادیوں کے حوالے سے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ کانز فلم فیسٹیول میں بھی اس سال متعدد فنکاروں نے فلسطین کے حق میں اظہار یکجہتی کیا ہے۔ دوسری جانب، ان کی نئی فلم ’’بٹر کرسمس‘‘ کو کانز میں مثبت ردعمل ملا ہے۔ فلم کے پریمیر کے بعد حاضرین نے طویل اسٹینڈنگ اوویشن دے کر فلم اور اس کے ہدایت کار کو خراج تحسین پیش کیا۔ فلم کے موضوع اور اس کے جذباتی انداز کو ناقدین کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK