Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: ریڈیو کی غلطی، شاہ چارلس سوم کی موت کا اعلان کیا، معافی نامہ جاری

Updated: May 21, 2026, 7:02 PM IST | London

برطانیہ کے ریڈیو اسٹیشن ریڈیو کیرولین نے غلطی سے ’’کنگ چارلس سوم کے انتقال‘‘ کی خبر نشر کر دی، جس کے بعد قومی ’’ڈیتھ آف اے مونارک‘‘ پروٹوکول فعال ہوگیا۔ اسٹیشن نے بعد میں عوامی معافی مانگتے ہوئے اس واقعے کا ذمہ دار ’’کمپیوٹر کی خرابی‘‘ کو قرار دیا۔ اسٹیشن منیجر پیٹر مور کے مطابق خرابی نے وہ ہنگامی نظام شروع کر دیا جو برطانوی میڈیا بادشاہ کی وفات کی صورت میں استعمال کرتا ہے۔ واقعے کے بعد اسٹیشن عارضی طور پر خاموش ہوگیا اور بعد میں معمول کی نشریات بحال کی گئیں۔

King Charles III. Photo: INN
کنگ چارلس سوم۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ کے ایک معروف ریڈیو اسٹیشن ’’ریڈیو کیرولین‘‘ نے اس وقت سنسنی پھیلا دی جب اس نے غلطی سے ’’کنگ چارلس سوم کے انتقال‘‘ کی خبر نشر کر دی۔ واقعہ ۱۹؍ مئی کو پیش آیا، جس کے بعد برطانیہ کے شاہی ہنگامی نشریاتی پروٹوکول ’’ڈیتھ آف اے مونارک‘‘ خودکار طور پر فعال ہوگیا۔ غلط اعلان نشر ہونے کے فوراً بعد ریڈیو اسٹیشن نے عوامی معافی جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک ’’کمپیوٹر کی خرابی‘‘ کے باعث ہوا۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، اس غلط پیغام نے وہ نشریاتی نظام متحرک کر دیا جو برطانیہ میں بادشاہ یا ملکہ کی وفات کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ریڈیو کیرولین کے اسٹیشن منیجر پیٹر مور نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ہمارے مرکزی اسٹوڈیو میں کمپیوٹر کی خرابی کی وجہ سے ’ڈیتھ آف اے مونارک‘ طریقہ کار غلطی سے فعال ہوگیا، جس کے نتیجے میں یہ اعلان نشر ہوا کہ ہز میجسٹی دی کنگ کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پروٹوکول برطانیہ کے تمام نشریاتی ادارے احتیاطی طور پر تیار رکھتے ہیں تاکہ شاہی خاندان سے متعلق کسی بڑے واقعے کی صورت میں فوری اور منظم نشریات ممکن ہو سکیں۔ پیٹر مور نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ اس پروٹوکول کو کبھی استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑے، لیکن تمام برطانوی اسٹیشن اسے تیار رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے تکنیکی خرابی نے اسے غلط وقت پر فعال کر دیا۔‘‘

ریڈیو کیرولین نے اس واقعے پر کنگ چارلس سوم اور اپنے سامعین دونوں سے معذرت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ اسٹیشن کئی برسوں سے ملکہ ایلزبتھ دوم اور اب کنگ چارلس سوم کے کرسمس پیغامات نشر کرتا آ رہا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ روایت آنے والے برسوں تک جاری رہے گی۔ رپورٹس کے مطابق غلط نشریات کے بعد اسٹیشن خود بخود خاموش ہوگیا، کیونکہ ’’ڈیتھ آف اے مونارک‘‘ پروٹوکول کے تحت مخصوص ہنگامی طریقہ کار نافذ ہو جاتا ہے۔ اس خاموشی نے اسٹیشن کے عملے کو فوری طور پر متوجہ کیا، جس کے بعد تکنیکی خرابی کو درست کر کے معمول کی نشریات بحال کی گئیں۔

اگرچہ ریڈیو کیرولین نے یہ واضح نہیں کیا کہ غلط اعلان کتنی دیر تک نشر ہوتا رہا، تاہم دی گارڈین کے مطابق منگل کو دوپہر ایک بجکر ۵۸؍ منٹ سے شام ۵؍ بجے تک اسٹیشن کی نشریات کا پلے بیک اس کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں تھا۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوگیا، جہاں کئی صارفین نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا، جبکہ کچھ لوگوں نے اسے برطانوی شاہی نظام کے حساس نشریاتی ڈھانچے کی مثال قرار دیا۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں شاہی شخصیات کی وفات کے لیے مخصوص میڈیا پروٹوکولز طویل عرصے سے موجود ہیں۔ ۲۰۲۲ء میں ملکہ ایلزبتھ دوم کے انتقال کے بعد بھی مختلف میڈیا اداروں نے انہی ضوابط کے تحت خصوصی نشریات اور بلیک آؤٹ طریقہ کار اپنایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملےموخر کرنے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کےدرمیان تلخ کلامی؛ تہران امریکی تجویز کا جائزہ لےرہاہے

کنگ چارلس سوم اس وقت برطانیہ کے بادشاہ ہیں اور حالیہ مہینوں میں ان کی صحت سے متعلق خبروں کے باعث شاہی خاندان مسلسل عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں اس غلط اعلان نے عوام میں وقتی بے چینی پیدا کر دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK