میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران میں مظاہروں میں شدت کے پیش نظر انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورکس گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں سے بند ہیں اور پورے ملک میں ڈجیٹل بلیک آؤٹ۱۲؍ گھنٹے سے تجاوز کر گیا،ساتھ ہی اقتصادی بحران کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 6:49 PM IST | Tehran
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران میں مظاہروں میں شدت کے پیش نظر انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورکس گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں سے بند ہیں اور پورے ملک میں ڈجیٹل بلیک آؤٹ۱۲؍ گھنٹے سے تجاوز کر گیا،ساتھ ہی اقتصادی بحران کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران میں مظاہروں میں شدت کے پیش نظر انٹرنیٹ اور فون نیٹ ورکس گزشتہ ۱۲؍ گھنٹوں سے بند ہیںاور پورے ملک میں ڈجیٹل بلیک آؤٹ۱۲؍ گھنٹے سے تجاوز کر گیا،ساتھ ہی اقتصادی بحران کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ قومی رابطہ عام سطح کے ایک فیصد تک گر گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیٹ بندش کے فوراً بعد موبائل فون سروس معطل ہو گئیں، حالانکہ ایرانی حکام نے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ایران پر توجہ مرکوز کرنے والے ایک حقوق گروپ نے بدھ کو رپورٹ دی کہ ایران میں احتجاج سے ہلاکتوں کی تعداد۳۸؍ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران :ملک گیر مظاہروں میں مزید شدت
جبکہ ایرانی حکام نے ہلاکتوں کے اعدادوشمار کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں سرکاری تفصیلات جاری کی ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں بد امنی ۲۸؍ دسمبر کو تہران کے تاریخی بازار میں ہڑتال سے شروع ہوئی، جس کا محرک ریال کا ریکارڈ کم سطح پر گرنا تھا۔ جو ہڑتال معاشی احتجاج کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ اب ایکبڑے احتجاج میں بدل چکا ہے، جو دارالحکومت سے بہت دور تک پھیل چکی ہے۔ان مظاہروں سے نپٹنے کیلئے حکام نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل ہے، ساتھ ہی عوام کو ہونے والی تکالیف کا اعتراف کرکے اس کے ازالے کی کوششوں کا عزم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: سیکوریٹی خدشات اور کشیدگی کے باعث ہندوستان کیلئے ویزا خدمات معطل
حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ردعمل زیادہ پرتشدد ہوتا جا رہا ہے۔ ناروے میں مقیم گروپ ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے کہا کہ صرف بدھ کے روز تیرہ اموات درج کی گئیں، جس میں۷؍ جنوری کو اب تک کا خونین ترین دن قرار دیا گیا۔ اس گروپ کے مطابق سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور۲۰۰۰؍ سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر محمود عمیری مقدم نے کہا، ’’ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کریک ڈاؤن کا دائرہ ہر روز زیادہ پرتشدد اور وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
تاہم تہران نے خارجہ وزارت کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں زور دیا کہ امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ امریکہ کے فریب آمیز رویے اور پالیسیوں کی مذمت کی۔