ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں کمی کیے جانے کی امید ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی قرض دیتا ہے۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 3:27 PM IST | Mumbai
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں کمی کیے جانے کی امید ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی قرض دیتا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں کمی کیے جانے کی امید ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی قرض دیتا ہے۔
ایم پی سی کا اجلاس ۳؍ سے۵؍ دسمبر کو ہونے والا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں ریپو اور دیگر پالیسی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ پچھلی بار آر بی آئی کے گورنر نے کہا تھا کہ افراط زر کی کم شرحوں کو دیکھتے ہوئے ریپو ریٹ میں کمی کی گنجائش ہے، لیکن مرکزی بینک مزید اعداد و شمار کا انتظار کرے گا۔ وہ اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کی گئی کٹوتی اور امریکہ میں ہندوستانی اشیاء پر زیادہ درآمدی محصولات کے اثر کا جائزہ لے گا۔
ان دونوں محاذوں پر اعداد و شمار کافی اچھے آئے ہیں۔ امریکی پابندی کے باوجود دوسری سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح ترقی۲ء۸؍ فیصد رہی ہے جس نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ ساتھ ہی، خردہ قیمتوں پر مبنی افراط زر کی شرح اکتوبر میں۲۵ء۰؍ فیصد رہی جو ۱۳؍ سال میں سب سے کم ہے۔ اس طرح تمام عوامل شرح سود میں کٹوتی کے امکان کو تقویت دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سپریم کورٹ میں مقدمات کی فہرست سازی کا نیا نظام یکم دسمبر سے نافذ
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل بھی حال ہی میں صنعتوں کی تنظیم فکی کے اجلاس میں اس بات کااشارہ دے چکے ہیں کہ آر بی آئی شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً تمام بڑی ریٹنگ ایجنسیوں کی رائے ہے کہ موجودہ مالی سال میں کم از کم ایک بار اور ریپو ریٹ کم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکی ایف ڈی اے کے دستاویز میں کرونا ویکسین اور ۱۰؍ بچوں کی موت میں ربط: رپورٹ
کم افراط زر کی وجہ سے لوگوں کے پاس قابل صرف آمدنی زیادہ ہو گئی ہے۔ دوسری طرف انفرادی انکم ٹیکس میں رعایتکی حد بڑھا کر ۱۲؍ لاکھ روپے کرنے اور جی ایس ٹی کی شرحوں میں کٹوتی سے سرکاری ریونیو کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے یہ ضروری ہے کہ لوگ زیادہ خرچ کریں۔ اس لیے شرح سود میں کمی ضروری ہے۔ اس سے نجی سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا جو گزشتہ طویل عرصے سے سست پڑی ہوئی ہے۔ موجودہ وقت میں معیشت کے تمام عوامل کے پیش نظر امکان ہے کہ اس ہفتے ریپو ریٹ میں کم از کم ۲۵ء۰؍ فیصد کی کٹوتی کی جائے گی۔