باندرہ میں کلکٹر آفس کے باہر مظاہرین نے نعرے لگائے ۔بورڈ امتحانات اور رمضان المبارک میں کارروائی نہ کرنے کی اپیل کی۔ ۴؍مظاہرین گرفتار۔
باندرہ مشرق میں کلکٹرآفس کے باہرمکین احتجاج کرتے ہوئے۔تصویر:آئی این این
مانخورد میں اناّ بھائو ساٹھے نگر( ڈبہ کمپنی ) علاقے کے جھوپڑا باسیوں کو منگل ۱۰؍ مارچ کو انہدامی کارروائی کا نوٹس دیاگیا ہے جس کے خلاف پیرکو مکینوں نے مضافاتی کلکٹر آفس (باندرہ مشرق) پر زبردست احتجاج کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہدامی کارروائی ہی کرنی ہے تو گزشتہ ۱۰؍ سال سے یہاں رہنے کیوں دیا گیا ۔ اس دوران ۸؍ مرتبہ انہدامی کارروائی ہوچکی ہے ۔ مکینوں نے بورڈ امتحانات اور رمضان المبارک میں کارروائی نہ کرنے کی اپیل کی ۔انابھاؤ ساٹھے نگر میں تقریباً ساڑھے ۳؍ہزار جھوپڑے ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ بیچ سڑک پر احتجاج کرنے پر پولیس نے۴؍ مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا ۔
باندرہ مشرق میں کلکٹر آفس کے سامنے تیز دھوپ میں اناّ بھائو ساٹھے نگر کےمکینوں نے احتجاج کیا ۔ ان میں بڑی تعداد میں خواتین بھی تھیں۔ متعدد خواتین اپنے چھوٹے بچوں کوساتھ آئی تھیں۔روزہ داربرقع پوش خواتین بھی ان میں شامل تھیں۔مظاہرین انقلاب زندہ باد، لڑیں گے لڑیں گے، جیتیں گےجیتیں گے ،کلکٹر ہم سے ڈرتا ہے، ہمیں ہمارا رہائشی حق دیا جائے، ممبئی پولیس ہائے ہائے اور اس طرح کے مختلف نعرے لگا رہے تھے ۔ بیچ سڑک پر احتجاج کرنے کی وجہ سے پولیس اور مظاہرین میں معمولی جھڑپ بھی ہوئی ۔ پولیس مائیکروفون کے ذریعے مظاہرین سے بیچ سڑک پر آندولن نہ کرنے کی اپیل کر رہی تھی ، اس کے باوجود نہ ماننے پر پولیس نے کارروائی کی ۔
اناّ بھائو ساٹھے نگر کے رکشا ڈرائیور صدام حمید قریشی نے اس نمائندے کو بتایا کہ ’’۱۰؍ سال قبل یہ پورا علاقہ دلدلی تھا ۔ یہاں آباد غریب اور مزدور طبقہ کے لوگوں نے بڑی محنت کر کے دلدل کر بھردیا اور دھیرے دھیرے یہاں اپنا آشیانہ بنایا، اس وقت انہیں گھر بنانے سے کیوں نہیں روکا گیا ؟ آج جب لوگوں نے یہاں کے پتےپر اپنے سارے دستاویزات ( آدھار، ووٹنگ ،راشن اور پین کارڈ وغیرہ) بنوالئےہیں تب انہیں بےگھر کرنے کی کوشش کی جا ر ہی ہے۔ گزشتہ ۱۰؍سال میں ۸؍مرتبہ صرف ایک نوٹس دے کر یہاں کے تقریباً ساڑھے ۳؍ہزار جھوپڑوں کو منہدم کیا جا چکا ہے ۔ لوگ انہدامی کارروائی کے بعد پھر گھر بنا لیتےہیں، انہیں دوبارہ گھر بنانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے ۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ ان دنوں بورڈ امتحانات اور رمضان المبارک جاری ہیں۔ ایسے میں انہدامی کارروائی کرنا کتنا درست ہے ؟ سب کے گھروں کو منہدم کرنے کے بجائے پورے علاقہ کا سروے کیا جائے جس کاگھر غیرقانونی ہے یا جس کے پاس دستاویزات نہیں ہیں ،ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔سب کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ ‘‘
اسی علاقہ کے اکبر شاہ نے کہا کہ ’’اگر یہ غیر قانونی جگہ تھی تو ہمیں آباد کیوں ہونے دیا گیا۔ ہم نے بڑی محنت کر کے یہاں کے دلدل کی صفائی کی ہے ۔ اپنے ہاتھوں سے دلدل کی بھرنی کی ہے ۔ اگر ہمارے گھر قانونی نہیں ہیں تو ہمارے گھر کے پتہ پر بنے الیکشن کارڈ کیسے قانونی ہوجا تےہیں ۔ ہمارا ووٹ کیسے قانونی ہو جاتا ہے۔ ووٹ لینے کیلئے توساری پارٹیوں کے لیڈران چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں لیکن آج جب ہم پر مصیبت آئی ہے توکوئی نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ ‘‘
اناّ بھائو ساٹھے نگر گھر حق سنگھرش سمیتی کے مطالبات:
(۱)منگل ۱۰؍مارچ کو انہدامی کارروائی فوری طور پر منسوخ کی جائے ۔ (۲) سبھی مکینوں کی میٹنگ طلب کی جائے، ان کی شکایت سنی جائے اور علاقہ کا سروے کیا جائے۔ (۳)یہاں کے سبھی قانونی مکینوں کی بازآبادکاری کی جائے۔ (۴) کارروائی سے قبل ۳۰؍ دن کا نوٹس دیا جائے ۔(۵) مکینوں کے متبادل رہائش کاانتظام کیا جائے۔