Updated: October 31, 2026, 9:59 PM IST
| New Delhi
بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی نیٹ ورکس کارفرما ہیں۔ ان الزامات کے سامنے آتے ہی ناقدین نے سیاسی جماعتوں کی اپنی فنڈنگ اور اس سے جڑے الزامات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے الیکٹورل بانڈز کے ذریعے سب سے بڑا حصہ حاصل کیا۔ اس اسکیم کے تحت نام ظاہر کئے بغیر سیاسی پارٹیوں کو عطیات دینے کی اجازت تھی۔ رپورٹس کے مطابق بعض برسوں میں بی جے پی کو کل الیکٹورل بانڈز کا ۹۵ فیصد تک حصہ ملا۔
بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی نیٹ ورکس کارفرما ہیں۔ ۲۲ اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے ’فاکس نیوز ڈجیٹل‘ کی تحقیقات کا حوالہ دیا اور ’پروگریسو انٹرنیشنل‘ اور ’انڈین الائنس پیرس‘ کا نام لیتے ہوئے کانگریس پر ”انارکی اور انتشار“ پھیلانے کیلئے بیرونِ ملک مقیم گروپس کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام لگایا۔ رکنِ پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے ”انکل سیم“ اور ”انکل سوروس“ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض اپوزیشن لیڈران کو غیر ملکی مفادات کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس سے قبل پارٹی کے صدر نتن نبین بھی اپوزیشن پر ”غیر ملکی طاقتوں کے اشارے پر“ عدم استحکام پھیلانے کا الزام لگا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کانگریس کے ٹائم پہ ‘‘ٹرینڈ کی سو شل میڈیا پردھوم، دلچسپ و پُرمزاح تبصرے
ان الزامات کے سامنے آتے ہی ناقدین نے سیاسی جماعتوں کی اپنی فنڈنگ اور اس سے جڑے الزامات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے الیکٹورل بانڈز کے ذریعے سب سے بڑا حصہ حاصل کیا۔ اس اسکیم کے تحت نام ظاہر کئے بغیر سیاسی پارٹیوں کو عطیات دینے کی اجازت تھی۔ رپورٹس کے مطابق بعض برسوں میں بی جے پی کو کل الیکٹورل بانڈز کا ۹۵ فیصد تک حصہ ملا۔ سپریم کورٹ نے ۲۰۲۴ء میں اس اسکیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
مالی شفافیت کا یہ سوال نیا نہیں ہے۔ ۲۰۱۳ء میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے فیصلہ دیا تھا کہ ۶ قومی جماعتیں حقِ معلومات ایکٹ (آر ٹی آئی) کے تحت ”پبلک اتھارٹیز“ ہیں اور انہیں معلومات ظاہر کرنا ہوں گی۔ جماعتوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا، اور کمیشن نے بعد میں کہا کہ وہ اپنا حکم نافذ نہیں کرا سکتا۔ کانگریس نے اس فیصلے کو ”مہم جوئی پر مبنی نقطہ نظر“ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان:۵۰؍ کروڑ افراد غربت کی حد سے باہر، مگر آمدنی میں خلا برقرار: ورلڈ بینک
غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ بھی پرانا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو ایک غیر ملکی کمپنی کے ہندوستانی ذیلی ادارے سے عطیات قبول کر کے فارین کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ نے قانون میں ترمیم کرکے ایسے عطیات کی اجازت دے دی۔
دوسری جانب، یہی قانون بعد میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کیلئے سخت کر دیا گیا۔ حکومت کو اب غیر ملکی فنڈنگ کی منظوری دینے اور اس کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ہزاروں این جی اوز اپنے لائسنس کھو چکی ہیں یا اپنی سرگرمیاں محدود کر چکی ہیں۔ اسی تناظر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ تنظیم بی جے پی کی نظریاتی سرپرست ہے، لیکن ہندوستان میں ایک ادارے کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے، اس لئے وہ این جی اوز پر لاگو ان قوانین کے دائرے میں نہیں آتی۔