میونسپل اسکولوں کی سیکوریٹی کی ذمہ داری بھی اب ہیڈماسٹروں کے سر

Updated: September 14, 2020, 12:03 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

بی ایم سی کے ۳۳۸؍ اسکولوںمیں سیکوریٹی اورصاف صفائی کیلئےاسٹاف فراہم کرنےوالی ایجنسیوں کا معاہدہ ۱۷؍ستمبر کوختم ہورہاہے ۔ لاک ڈائون کی وجہ سے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے نیا معاہدہ نہیں ہوسکاہے۔ ۱۸؍ستمبر سےپرائیویٹ ایجنسیوں کاعملہ ڈیوٹی نہیں کرے گا۔ اس لئے ایجوکیشن آفیسر نے ہیڈماسٹرس کو سیکوریٹی اور صاف صفائی کا انتظام اپنے طورپر کرنے کی ہدایت دی ہے

Municipal School
میونسپل اسکول

میونسپل اسکولوںکی عمارتوںکی دیکھ ریکھ ، صاف صفائی اور نگرانی کیلئے اسٹاف فراہم کرنے والی ایجنسیوں کا ۱۷؍ستمبر کو معاہدہ ختم ہورہاہے ۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نےاس ضمن میں ایک سرکیولر جاری کرکے ہیڈماسٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے طورپر اسکولوں کی دیکھ ریکھ، صفائی اور نگرانی کیلئے اسٹاف کا انتظام کریں ۔ اس نئے فرمان سے ہیڈماسٹروںمیں بے چینی پائی جارہی ہے ۔  واضح رہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سےگزشتہ ۵؍مہینے سے  اسٹیڈنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد نہیں ہوئی ہے ۔ اس لئے  سیکوریٹی ایجنسیوں  سے نیا معاہدہ نہیں ہوسکا  ہے۔ علاوہ ازیں میٹنگ نہ ہونے سے   ان ایجنسیوں کا بل کلیئر نہیں ہواہے ۔ بل نہ ملنے  سےان ایجنسیوں کے اسٹاف ممبروں کو گزشتہ ۴؍مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے جس سے ان کا عملہ لاک ڈائون میں مالی مشکلات کا شکار ہے۔
   ایجوکیشن آفیسر مہیش پالکر نے اس تعلق سے ۱۱؍ستمبر کو ایک سرکیولر جاری کیاہے جس میں یہ تفصیل دی گئی ہےکہ مذکورہ کام کیلئے بی ایم سی کے ۳۳۸؍اسکولوں کیلئے ۲۰۱۶ء تا ۲۰۱۹ء  معاہدہ کیاگیاتھا۔ اس مدت کے ختم ہونےپر اس معاہدہ میں ۱۷؍مارچ ۲۰۲۰ء تک کی توسیع کی گئی تھی۔ اسی دوران  ۲۰۲۰ءتا۲۰۲۳ءتک کے معاہدہ کی کارروائی جاری تھی لیکن لاک ڈائون ہونے سے اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقدنہیں ہوسکی ۔ نتیجتاً مذکورہ معاہدے میں مزید ۶؍  مہینے کی توسیع کردی گئی تھی۔ یہ معاہدہ ۱۷؍ستمبر ۲۰۲۰ء کو ختم ہورہاہے ۔ اس معاہدہ میں مزید ۶؍ مہینے( ۱۸؍ستمبر تا ۱۷؍مارچ ۲۰۲۱ء) کی توسیع کی تجویز اعلیٰ افسران اور میونسپل کمشنر کے سامنے پیش کی گئی ہے مگر میونسپل کمشنر نے اس کی منظوری نہیں دی ہے ۔اس لئے ۱۸؍ستمبر ۲۰۲۰ء سے مذکورہ ایجنسیاں اپنی خدمات بند کردیں گی۔ ایسے میں ہیڈماسٹروںکی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان کاموں کیلئے اپنے طورپر اسٹاف کا انتظام کریں۔‘‘
  اس تعلق سے بی ایم سی کے ایک اعلیٰ ایجوکیشن آفیسر نےکہاکہ ’’ کرسٹل اور بھارت وکاس گروپ نامی ایجنسیاں  میونسپل اسکولوںمیں اسٹاف فراہم کرتی ہیں مگر ان ایجنسیوں کا بل ادا نہیں کیاگیاہے جس کی وجہ سے انہوں نےاسٹاف کو گزشتہ کئی مہینوںسے تنخواہ نہیں دی ہے۔ ان ایجنسیوں کے مالکان سے میںنے اپیل کی تھی کہ آپ اپنی جانب  سے اسٹاف کو تنخواہ ادا کریں تاکہ لاک ڈائون میں ان کی مشکلات دورہوں جس پر مالکان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہےکہ وہ اسٹا ف کوادا کر سکیں ۔ دوسری جانب کووڈ ۱۹؍ اور لاک ڈائون کے سبب  اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ نہ ہونےسے ایک تو ان ایجنسیوں کا بل رکا ہوا ہے،  دوسرے نئے معاہدہ کی کارروائی نہیں ہوپارہی ہے  جبکہ معاہدہ ۱۷؍ستمبر کو ختم ہورہا ہے۔ اس کےبعد اسکولوں کی دیکھ  ریکھ ،صاف  صفائی اور نگرانی کی ذمہ داری ہیڈماسٹروںکو سونپی گئی ہے ۔ ‘‘
  جنوبی ممبئی کے ایک اسکول  کے سیکوریٹی گارڈ نے کہا کہ ’’لاک ڈائون میں بھی بڑی ذمہ داری کےساتھ ہم نے ڈیوٹی  دی مگر  پزیرائی تو دورکی بات ہمیں تنخواہ تک وقت پر نہیں مل رہی ہے ۔ گزشتہ ۴؍مہینے سے تنخواہ نہیں ملی ہے ۔ کبھی کچھ توکبھی کچھ کہا جارہاہے ۔ اب یہ سننے میں آیاہےکہ ۱۷؍ستمبرسے ہمیں ڈیونی پر نہیں آناہے لیکن کمپنی کے جانب سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے ۔ اس لئے ہم کمپنی کی ہدایت کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK