Updated: March 17, 2026, 6:00 PM IST
| Geneva
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پر یورپی ممالک نے محتاط اور تنقیدی موقف اختیار کیا ہے۔ بلجیم نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دے گا، جبکہ یورپی یونین نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے رکن ممالک اس جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اسی دوران جرمن صدر نے اس جنگ کو بین الاقوامی قانون کے تحت ’’مشکوک بنیادوں‘‘ پر شروع کیا گیا قرار دیتے ہوئے فوری خاتمے کی اپیل کی ہے۔
(۱) بلجیم نے ایران کے خلاف کسی بھی حملے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا
بلجیم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلجیم اس تنازع میں براہ راست فوجی کردار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، لیکن ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔‘‘ ماہرین کے مطابق بلجیم کا یہ فیصلہ یورپ کے اندر بڑھتی ہوئی احتیاط کی عکاسی کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اس تنازع کے ممکنہ اثرات، خصوصاً توانائی بحران اور سلامتی کے خدشات کے باعث براہ راست شمولیت سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ کے اتحادی بھی اس جنگ میں مکمل طور پر ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: موت کی افواہوں کے درمیان نیتن یاہو نے مزید ۲؍ ویڈیوز جاری کئے، اے آئی کا شبہ
(۲) یورپی یونین: ممبر ممالک اس جنگ میں شامل نہیں ہوں گے
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک ایران کے خلاف جاری جنگ میں براہ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے اور ہمارا مقصد سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔‘‘ یورپی یونین کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یورپ اس تنازع کو فوجی کے بجائے سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔اس صورت میں یورپی ممالک کے اس موقف سے امریکہ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ اسے اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ کی عدم شمولیت جنگ کے عالمی توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان ٹرمپ نے اپنا بیجنگ کا دورہ ملتوی کردیا
(۳) جرمن صدر: جنگ بین الاقوامی قانون کے تحت مشکوک بنیادوں پر شروع کی گئی
جرمنی کے صدر فرانک والٹر اسٹائن مائر نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو بین الاقوامی قانون کے تحت ’’مشکوک بنیادوں‘‘ پر شروع کیا گیا قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ ’’ہمیں فوری طور پر اس جنگ کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دے۔ ماہرین کے مطابق جرمن صدر کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپ کے اندر بھی اس جنگ کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات عالمی سطح پر جنگ کے جواز کو کمزور کر سکتے ہیں۔