بی جے پی کو۲۰۰؍ سے زائد نشستوں پر کامیابی، شندے سینا۱۶۰؍ سے زائد اور اجیت پوار این سی ۱۷۰؍ سے زائد سیٹیں جیتنے میں کامیاب۔ مہاوکاس اگھاڑی کا براحال، کانگریس کو ۵۰؍سےزائد سیٹوں پر کامیابی
EPAPER
Updated: February 09, 2026, 11:48 PM IST | Mumbai
بی جے پی کو۲۰۰؍ سے زائد نشستوں پر کامیابی، شندے سینا۱۶۰؍ سے زائد اور اجیت پوار این سی ۱۷۰؍ سے زائد سیٹیں جیتنے میں کامیاب۔ مہاوکاس اگھاڑی کا براحال، کانگریس کو ۵۰؍سےزائد سیٹوں پر کامیابی
مہاراشٹر کی ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے حتمی نتائج پیر کو جاری کر دیےگئے، جن سے حکمراں مہایوتی اتحاد کی فیصلہ کن برتری کی تصدیق ہوئی۔ یہ انتخابات۷؍ فروری۲۰۲۶ء کو منعقد ہوئے تھے اور نتائج۹؍ فروری۲۰۲۶ء کو سامنے آئے۔ مہایوتی اتحاد میں بی جے پی، ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور آنجہانی اجیت پوار کی قیادت سے وابستہ این سی پی دھڑا شامل ہے۔ ریاست کے۱۲؍ اضلاع میں۷۲۷؍ ضلع پریشد نشستوں پر یہ انتخاب ہوا، جہاں مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً۶۸؍ فی صد رہا۔
یہ دیہی انتخابات آنجہانی سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے گزشتہ ماہ طیارہ حادثے میں انتقال کے بعد پہلا بڑا سیاسی امتحان مانے جا رہے ہیں۔ ریاست گیر رجحانات سے ظاہر ہوا کہ مہایوتی اتحاد نے کئی اضلاع میں سبقت حاصل کی، جبکہ کانگریس، شیو سینا (یو بی ٹی) اور شرد پوار کی قیادت والی این سی پی پر مشتمل مہا وکاس اگھاڑی کو کئی مقامات پر دھچکا لگا، اگرچہ بعض علاقوں میں اس کا اثر برقرار رہا۔
مراٹھواڑا میں بی جے پی بڑی پارٹی بن کر ابھری
مراٹھواڑہ خطہ نتائج کے لحاظ سے خاص توجہ کا مرکز رہا، جہاں۵؍ اضلاع - اورنگ آباد، پربھنی، عثمان آباد، لاتور اور ناندیڑ میں انتخابات ہوئے۔ خطے میں اوسط ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً۶۵؍ فی صد رہا اور حکام کے مطابق پولنگ یا گنتی کے دوران کوئی بڑی بے ضابطگی رپورٹ نہیں ہوئی۔ نتائج نے خاص طور پر بی جے پی کے حق میں اتحاد کی مضبوطی کو ظاہر کیا، جو روایتی طور پر این سی پی کے اثر و رسوخ اور زرعی مسائل سے وابستہ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
اورنگ آباد میں۶۲؍ نشستوں کے مقابلے میں بی جے پی نے۲۳، شیو سینا (شندے) نے۲۰؍ اور این سی پی (اجیت پوار ) نے۵؍ نشستیں حاصل کیں۔ کانگریس کو ایک اور شیو سینا (یو بی ٹی) کو۹؍ نشستیں ملیں، جبکہ شرد پوار کی قیادت والی این سی پی اور دیگر جماعتیں کوئی نشست حاصل نہ کر سکیں۔ یہ نتیجہ۲۰۱۷ء کے مقابلے میں بی جے پی کے لیے معمولی بہتری کی علامت ہے، جب پارٹی نے۲۲؍ نشستیں جیتی تھیں۔ پربھنی میں۵۴؍ نشستوں پر مہایوتی کو واضح اکثریت ملی۔ بی جے پی نے۲۴، شیو سینا (شندے) نے۵؍ اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) نے۱۵؍ نشستیں جیتیں۔ کانگریس کو۳، شیو سینا (یو بی ٹی) کو۶؍نشستیں ملیں، جبکہ ایک نشست ایک آزاد امیدوار کے حصے میں آئی۔
عثمان آباد میں کل۵۵؍ نشستوں میں بی جے پی۱۸؍ نشستوں کے ساتھ آگے رہی، شیو سینا (شندے) کو۱۵؍ اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) کو۶؍ نشستیں ملیں۔ کانگریس نے۸، شرد پوار کی این سی پی نے۳؍ نشستیں حاصل کیں، جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو مجموعی طور پر۵؍نشستیں ملیں، جس سے مہایوتی کو مجموعی طور پر آرام دہ برتری ملی۔
لاتور میں۵۸؍ نشستوں کے ساتھ تصویر نسبتاً متوازن رہی۔ کانگریس نے۲۳؍ نشستیں جیتیں، بی جے پی کو۱۸؍ اور این سی پی (اجیت پوار دھڑا) کو۱۲؍ نشستیں ملیں۔ شیو سینا (شندے) اور این سی پی (شرد پوار ) کو ایک ایک نشست ملی، جبکہ۴؍نشستیں دیگر کے حصے میں گئیں، جو اس روایتی کانگریس-این سی پی مضبوط گڑھ میں اپوزیشن کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ناندیڑ میں بھی۵۸؍ نشستیں ہیں، تاہم رپورٹ کے وقت جماعتی تفصیلات مکمل طور پر دستیاب نہیں تھیں۔ ابتدائی اشارے مہایوتی اتحاد کے حق میں بتائے گئے، جو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ملے جلے نتائج کے بعد دیہی علاقوں میں اس کی بحالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ نتائج جنوری۲۰۲۶ء میں منعقدہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں مہایوتی کی مضبوط کارکردگی کے بعد اس کے سیاسی برتری میں اضافہ کرتے ہیں، جہاں اتحاد نے متعدد بلدیاتی اداروں پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ضلع پریشد کے یہ نتائج آئندہ انتخابی معرکوں سے قبل، خاص طور پر مہاراشٹر کے دیہی قلب میں، ریاستی قیادت کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوں گے۔
وزیراعلیٰ فرنویس نے کیا کہا؟
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے پیر کے روز کہا کہ ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے دوران بی جے پی شہری، نیم شہری اور دیہی مہاراشٹر میں نمبر ایک پارٹی بن کر ابھری ہے۔انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے۲۰۱۷ء کا اپنا ریکارڈ توڑتے ہوئے اب تک۱۲؍ اضلاع میں۲۳۶؍ نشستیں حاصل کی ہیں اور۱۲۵؍ پنچایت سمیتیوں میں۴۱۰؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نے ایک بار پھر مہایوتی اتحاد پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔