ریا - سشانت منشیات معاملہ: عدالت نے تفتیش پر کئی سوال اٹھائے

Updated: September 30, 2020, 10:04 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

اداکار سشانت سنگھ کی خود کشی کی جانچ منشیات کے کاروبار کی تفتیش میں تبدیل ہونے پر اداکارہ ریا چکرورتی اور ان کے بھائی شوویک سمیت ۱۹؍افرادکی گرفتاری کے بعد ضمانت کی داخل کردہ عرضداشت پر جاری سماعت

Sushant SIngh Rajput and Rhea- Pic : INN
سشانت سنگھ راجپوت اور ریا ۔ تصویر : آئی این این

اداکار سشانت سنگھ کی خود کشی کی جانچ منشیات  کے کاروبار کی تفتیش میں تبدیل ہونے پر اداکارہ ریا چکرورتی اور ان کے بھائی شوویک سمیت  ۱۹؍افرادکی گرفتاری کے بعد ضمانت کی داخل کردہ عرضداشت پر جاری سماعت کے دوران ایک طرف استغاثہ ملزموں کی درخواست کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے منشیات کے کاروبار کو قتل اور خود کشی پر آمادہ کرنے سے زیادہ سنگین جرم قرار دیتا رہا وہیں دفاعی وکلاء نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی تفتیش پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فون پرہوئی بات چیت یا میسیج کے ذریعہ منشیات سے متعلق کی جانے والی گفتگو کو بطور ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ بات چیت کے بعد اس پر لین دین ہوا یا اس کا استعمال ہوا یا نہیں اس بات کا ثبوت تفتیشی ایجنسی کے پاس نہیں ہے ۔ عدالت نے  فریقین کی باتیں سننے کے بعدملزموں کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔
  ریا اور شوویک کی جانب سے وکیل ستیش مانے شندے کے علاوہ دیگر ملزموں کی جانب سے وکیل دفاع طارق سیّد نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جسٹس ایس جے کاتھا والا سے کہا کہ  افسوس اس بات کا ہے کہ گرفتار شدہ ملزمین کے علاوہ جس اداکار سشانت سنگھ راجپوت پر منشیات کے استعمال کا الزام لگایا گیا ہے ، وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے اور ان کی جانب سے دفاع کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ وہیں تفتیشی نقطہ نظر سے جس فون کال یا میسیج کی بنیاد پرتفتیشی ایجنسی نے ۱۶؍افراد کو گرفتار کیا ہے ، ان کے خلاف باضابطہ طور پر کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں اپنے فون سے کسی ڈیلر کومیسیج کرکے ۱۰؍ گرام منشیات بھیجنے کو کہو اور وہ اس کے جواب میں ’ ہاں‘ کہہ دے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ اس نے مجھے منشیات بھیج دی ہو  یا میں نے اس کا استعمال کر لیا ہو ۔
  دوران سماعت جب  جسٹس ایس جے کاتھا والا نے سوال کیا کہ ’’ اگر ایک باپ اپنے بیٹے کی نشے کی لت سے مجبور ہوکر اس کی تکلیف کو دور کرنا چاہتا ہے اور منشیات لا کر دیتا ہے تو کیا وہ مجرم ہوگا؟‘‘ اس پر وکیل استغاثہ انل سنگھ نے باپ کو ملزم قراردیااور کہا کہ ’’ منشیات کا استعمال اور اس کی خرید و فروخت قتل اور خود کشی پر آمادہ کرنے سے زیادہ سنگین اور ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ منشیات کا کاروبار اور اس کا استعمال ہمارے نوجوانوں کو تباہ کررہا ہے اور اس کا اثر پورے سماج پر پڑتا ہے ‘‘۔ اسی درمیان ریا کے وکیل ستیش مانے شندے نےکہا کہ ان کی موکلہ کے پاس سے تفتیشی ایجنسی نے منشیات برآمد نہیں کی ہیں اور جہاں تک  اداکار سشانت سنگھ کے منشیات استعمال کرنے اور شوویک اور ان کے ملازمین کے ذریعہ منشیات فراہم کرنے کیلئے پیسے ادا کرنے کی بات ہے تو وہ سشانت کے کریڈٹ کارڈ سے ہی ادا کئے گئے ہیں ۔
  جسٹس کاتھا والا نے  تمام ملزموںکی ضمانت کی درخواست سے متعلق دلائل سننے کے بعد منگل کی شام ۶؍ بجکر ۴۵؍ منٹ پر سماعت ختم کرنے کا حکم دیا اور فیصلہ محفوظ کر تے ہوئے جلد ہی اس پر فیصلہ سنائےجانے کی اطلاع دی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK