بچپن سے لڑکپن تک اسکول آنا جانا ان کے مکان کے سامنے سے ہوتا تھا۔ مجھے خوبصورت چیزیں پسند تھیں۔ان کو دیکھنے کے لئے چلتے چلتے رک جاتا تھا۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 4:41 PM IST | Shakeel Aijaz | Akola
بچپن سے لڑکپن تک اسکول آنا جانا ان کے مکان کے سامنے سے ہوتا تھا۔ مجھے خوبصورت چیزیں پسند تھیں۔ان کو دیکھنے کے لئے چلتے چلتے رک جاتا تھا۔
بچپن سے لڑکپن تک اسکول آنا جانا ان کے مکان کے سامنے سے ہوتا تھا۔ مجھے خوبصورت چیزیں پسند تھیں۔ان کو دیکھنے کے لئے چلتے چلتے رک جاتا تھا۔ تتلیاں، پھول، پرندے اور خوبصورت لوگ بھی۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مکان سے باہر ٹہلتے ہوئے، کبھی آرام کرسی پر لیٹے ہوئے اور اکثر دروازہ میں کھڑے نظر آ جاتے تھے۔ان کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے رفتار دھیمی کر دیا کرتا تھا کہ رک جائوں تو یہ نہ پوچھ لیں کہ کیا بات ہے؟ وہ میرے والد کے ملاقاتیوں میں سے تھے یعنی اس زمانے کی تہذیب کے مطابق مجھے ڈرنا چاہئے تھا لیکن ان سے ڈر نہیں لگتا تھا، محبت محسوس ہوتی تھی۔ سفید اور گلابی گلاب کی رنگت اور اسی طرح بھرے بھرے جسم والے اور ویسے ہی تروتازہ لگتے تھے۔ کبھی قمیص پاجامہ، کبھی سوٹ بوٹ، کبھی پتلون اور شرٹ کے ساتھ آسمانی رنگ کا سویٹر پہنے نظر آتے تھے۔ ایک کار ان کے گھر کے گیراج میں کھڑی رہتی تھی جو راہ چلتوں کو نظر آتی تھی۔ اس زمانے میں جب ریڈیو اور سائیکل بھی کسی کے پاس ہونا معمولی بات نہیں تھی کسی کے پاس کار ہونا غیر معمولی بات تھی۔ کار بھی ویسی، جیسی کار میں ہٹلر نصابی کتابوں میں بیٹھا نظر آتا ہے۔بعد میں سمجھ آئی کہ ہٹلر اور ڈاکٹر صاحب میں صرف یہی مماثلت تھی کہ دونوں کی کاریں ملتی جلتی تھیں ورنہ دونوں ایک دوسرے کی ضد تھے۔ (اس کار کا بھی ذکر کردوں جس کا ڈاکٹر صاحب کی کار سے کوئی تعلق نہیں۔)
یہ بھی پڑھئے:شعروں کی آن لائن اِصلاح کا نیا رُجحان کتناکارگر؟
اسکول سے ذرا پہلے ایک کارخانہ یا ورک شاپ پڑتا تھا جہاں پرانی، بگڑی ہوئی کاروں کو ٹھوک پیٹ کر قابل استعمال بنایا جاتا تھا۔ ایک کار کئی ہفتوں تک کھڑی رہی۔ اس کو اسٹارٹ ہوتا دیکھنے میں ہم لوگ اسکول پہنچنے میں اتنے لیٹ ہو جاتے کہ سزا سے بچنے کے لئے اسکول کے باہر ہی ادھر ادھر ٹائم پاس کرتے۔ ایک آدمی سردی میں بھی رومال سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کار کا ہینڈل گھماتا جاتا۔ یہ سب دیکھنا ہمارے لئے دلچسپ تھا۔ کار شروع ہوتے ہی ہم اسکول کے راستے پر روانہ ہوجاتے۔جیسے یہ شروع نہ ہوئی تو آج کی اسکول گئی۔ سالانہ امتحان کے بعد رزلٹ شیٹ پر غیر حاضر دن بھی لکھے جاتے تھے۔ ایک بار لکھا آیا کہ ’’سال میں تیرہ دن غیر حاضر رہا۔‘‘ گھر پہ سخت بازپرس ہوئی کہ گھر سے روز ’’دفتر‘‘ لے کر نکلتا تھا۔ اتنے دن اسکول کی بجائے کہاں گیا تھا جواب دے؟ لوگ ہم کو ادھر سے ادھر سے دھکے دے کر اگلوانے کی کوشش کرتے رہے۔ ہم آنکھیں اور گردن جھکائے دست بستہ خاموش کھڑے دل ہی دل میں کہتے رہے کہ ان تیرہ دنوں میں کار ہی اسٹارٹ نہ ہوئی تو اس میں ہماری کیا غلطی ہے؟ ادھر لوگ کہتے رہے کہ زبان کہاں گئی؟ بولتا کیوں نہیں؟ اس زمانے میں درست جواب کو بھی زبان درازی سمجھا جاتا تھا۔ ہم غیر حاضری کا اصل سبب بتاتے تو اصل مجرم یعنی میکانک کی بجائے ہماری ہی پٹائی ہو جاتی کہ بہت بدتمیز اور زبان دراز ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب چہرے اور باڈی لینگویج سے بہت مسرور اور مطمئن نظر آتے تھے جیسے کہ ڈاکٹر کو ہونا چاہیے۔ ان کی محبت آمیز مسکراہٹ، رک رک کر اطمینان سے بات کرنا، گفتگو میں نرم الفاظ اور نرم لب و لہجہ کا استعمال کرنا، یہ وہ عوامل تھے جن کے سبب مریض ان کو دیکھتے ہی سکون اور خوشی محسوس کرتے تھے۔ مریض کے دواخانے میں داخل ہوتے ہی تاڑ لیا کرتے کہ کس مرض میں مبتلا ہے۔ بلڈ ٹیسٹ، ایکسرے اور سونوگرافی وغیرہ کی مشینیں ان کے دماغ میں پہلے سے موجود تھیں، کارخانوں سے تیار ہو کر بعد میں آنے لگیں۔ تشخیص کے لئے مشہور تھے۔ دور دور سے لوگ علاج کے لیے آتے اور بفضل تعالیٰ، شفایاب ہوتے تھے۔ ان کے یونانی طریقۂ علاج میں پرہیز لازمی تھا۔ بعض مریضوں کو دوا کے ساتھ چھاچھ پینا لازمی تھا۔ ہمارے چچا سناتے ہیں کہ ان کو تین مہینے تک صرف چھاچھ پینی پڑی۔ اس زمانے میں دہی اور چھاچھ بیچنے والے گلیوں میں گھومتے تھے۔تین ماہ تک چھاچھ پینے سے چچا کا مرض تو غائب ہو گیا لیکن چھاچھ کی ایسی دھاک(ڈر) بیٹھ گئی کہ بیچنے والے گلی میں آتے تو جی چاہتا کنویں کی منڈیر کے پیچھے چھپ جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:خالد شاہین: بچوں کے ڈراموں کا ایک روشن چہرہ
آج لفظ لیڈر سنتے ہی کچھ اور ہی تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔یہ اس تصور کے برعکس تھے۔ لوگ اس قدر چاہتے تھے کہ کئی بار آپ بلا مقابلہ رکن بلدیہ بنے۔ اللہ کی رضا پانے اور اس کی تلاش میں لوگ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ الگ الگ راستے اپناتے ہیں۔ انہوں نے صوفیانہ طرز زندگی کو اپنایا۔ ان کے مکان پر محفل سماع کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ جس میں ہر مکتب فکر کے لوگ شرکت کرتے تھے۔ میں ابا جان کے ساتھ شریک ہوا۔ اسکول میں پڑھتا تھا۔ اس محفل کی خوشبو سے، نشست و برخاست کے طور طریقوں سے، وہاں پیش ہونے والے کلام کے الفاظ اوررِدم سے، کلام سنانے والوں کی جادوئی آوازوں، سر تال لَے اور سننے والوں کے وجد وغیرہ سے مجھے دماغ میں ایسا بے نام سکون محسوس ہوا کہ نیند آنے لگی۔ جی چاہا ذرا سی جگہ بنا کر یہیں لیٹ جائوں۔ اس کے بعد بھی اس کیفیت کی تلاش میں وہاں جاتا رہا۔
ان محفلوں میں ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں سرمہ واضح نظر آتا تھا۔ اس وقت ان کی شخصیت عام دنوں سے الگ، پرکشش اور رعب دار لگتی تھی۔ حاضرین تھوڑی تھوڑی دیر میں ان کو دیکھ کر گویا ’’مسرت دیدار‘‘ کشید کرتے تھے۔۱۹۸۰ء کے آس پاس وہ ناچیز کے گھر تشریف لائے۔ ڈاکٹر ظ انصاری صاحب نے حضرت امیر خسرو کی زندگی پر ایک آڈیو کیسیٹ تیار کی تھی جس انہوں نے خود اپنی آواز میں حضرت امیر خسرو کے حالات زندگی بیان کئےاور بعض واقعات کو فلمی طرز میں بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ فلمی اداکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا تھا۔ وقفہ وقفہ سے افغانستان، روس اور ایران وغیرہ کے صوفیانہ کلام پیش کرنے والے گلوکاروں کی مست کر دینے والی آوازیں بھی تھیں۔اس کیسیٹ کو حاصل کرنے کے لئے وہ چاہتے تو مجھے گھر بلا سکتے تھے۔ میں نے یہ کیسیٹ (جو مجھے ظ انصاری صاحب نے تحفتاً عنایت کی تھی،) ان کو نذر کرنے کی پوری کوشش کر ڈالی لیکن انہوں نے اس پر لکھی قیمت عنایت کی اور فرمایا کہ ظ صاحب سے کہو امیر خسرو پر اس طرح کی چند کیسیٹ اور تیار کیجئے۔
یہ بھی پڑھئے: ادب نیا پرانا نہیں ہوتا، اس میں عجائب خانے نہیں ہوتے!
ہمارے بچپن (۱۹۶۰ء) میں یعنی ڈاکٹر صاحب کی جوانی کے زمانے میں ٹی وی، اسمارٹ فون وغیرہ نہیں تھے۔سب سے مرغوب اور عالیشان تفریح فلم بینی تھی۔ فلمیں دیکھنے والے ہمارے سینئرس ڈانٹتے تھے کہ اخلاق خراب ہوتے ہیں فلمیں نہ دیکھا کرو کتابیں پڑھا کرو۔تو ہم نے محسوس کیا کہ فلمیں تو کتابوں ہی طرح ہوتی تھیں۔ کچھ فلموں اور کچھ مناظر کو چھوڑ دیا جائے تو صاف ستھری اور نصیحت آموز ہوتی تھیں۔ فلموں کے جادوسے جوانوں میں اس وقت شاید ہی کوئی بچ پایا ہو۔ ڈاکٹر صاحب کا لُک، ان کا رہن سہن، فلمی ہیرو ہی کی طرح ہم کو لگتا تھا۔ ہم دو تین دوست اسکول سے فرار ہو کر میٹنی شو پہنچ جایا کرتے تھے۔ اسکول ختم ہونے کے وقت پر سب کے ساتھ ہم بھی مسکین صورت بنائے اپنے گھر پہنچتے۔امی کہتیں دیکھو صورت کتنی اتر گئی ہے۔ بچہ پڑھائی پر بہت محنت کر کے آیا ہے۔ صورت اترنے کا اصل سبب امی کو معلوم نہیں تھا کہ سنیما ہال میں اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے، پردے پر ہیرو اور ویلن کی لڑائی میں اچھل اچھل کر اور چلاچلا کر شریک ہونے سے ہلکان ہوئے ہیں۔ تو فلمیں دیکھنے سے ذہن میں ہیرو کا ایک تصور بن گیا تھا۔ صحت مند، گورا خوبصورت، خوش پوشاک، بیڈمنٹن اور فٹ بال کھیلنے والا، گھڑسواری اور کار چلانے والا، نہایت رحم دل انسان۔ ان میں سے بہت سی باتیں ڈاکٹر صاحب میں نظر آتیں تو لگتا ۔ اس لئے بھی ان کو دیکھنا دلچسپ اور مسرور کن حرکت معلوم ہوتی تھی۔تو ایسے تھے ڈاکٹر محمد اسحٰق صاحب چشتی قادری۔