Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھیل کی دنیا کے ابھرتے ستارے چراغ تیاگی کی موت

Updated: June 03, 2026, 12:00 PM IST | Ghaziabad

اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ابھرتے ہوئے پیرا ایتھلیٹ چراغ تیاگی کی پراسرار موت نے کھیل کی دنیا اور مقامی علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔

Chirag Tyagi.Photo:INN
چراغ تیاگی۔ تصویر:آئی این این

اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں ابھرتے ہوئے پیرا ایتھلیٹ چراغ تیاگی کی پراسرار موت نے کھیل کی دنیا اور مقامی علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ چراغ تیاگی کی لاش شہر کے سائی اُپون علاقے سے مشتبہ حالات میں برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔  ابتدائی شواہد کی بنیاد پر قتل کے امکان کو خارج نہیں کیا جا رہا۔
پولیس کے مطابق چراغ تیاگی کے جسم پر دو سنگین زخم پائے گئے ہیں، جو بظاہر گولی لگنے یا کسی نوکیلے ہتھیار سے حملے کے نتیجے میں ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ زخم کمر اور بغل کے حصے میں پائے گئے ہیں۔ تاہم ان زخموں کی اصل نوعیت اور موت کی صحیح وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔
چراغ تیاگی غازی آباد کے مراد نگر تھانہ علاقے کے تحت آنے والے بسنت پور سینتھلی گاؤں کے رہائشی تھے۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور پیرا ایتھلیٹکس میں تیزی سے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے طور پر اپنی شناخت بنا رہے تھے۔ وہ دہلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں رہائش پذیر تھے، جہاں انہیں تربیت اور رہائش کی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔کھیل کے میدان میں چراغ نے حالیہ دنوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے بنگلورو میں منعقدہ قومی سطح کے مقابلے میں ۴۰۰؍ میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اکتوبر میں جاپان میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں کے لیے بھی کوالیفائی کر چکے تھے، جس سے ان کے روشن مستقبل کی امیدیں وابستہ تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:بھارت بھاگیہ ودھاتا کا شاندار ٹریلرجاری ، کنگنا رناوت نرس کے کردار میں نظرآئیں


چراغ کے والد منوج تیاگی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک کامیاب ایتھلیٹ بنانے کے لیے اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی تھی اور یہاں تک کہ زمین بھی فروخت کر دی تھی تاکہ اس کے خواب پورے ہو سکیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چراغ یا ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، اس لیے یہ واقعہ ان کے لیے انتہائی حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔غازی آباد کے ڈی سی پی سٹی دھول جیسوال نے بتایا کہ پولیس ہر زاویے سے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور قتل کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے:ودربھ کی نمیرہ محمد غالب صدیقی نیٹ ایم ڈی ایس میں آل انڈیا رینک میں پہلی پوزیشن پر


 سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی بنیاد پر ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے، جس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جب کہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کے لیے متعدد پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فارنزک شواہد سامنے آنے کے بعد معاملے کی حقیقت مزید واضح ہو سکے گی۔ فی الحال چراغ تیاگی کی اچانک اور پراسرار موت نے ان کے اہل خانہ، دوستوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK