• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹارلنک کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے حریف سیٹیلائٹ کمپنیاں سرگرم

Updated: October 28, 2026, 10:05 PM IST | Washington

یوکرین میں اسپیس ایکس کی اسٹارلنک سروس پر پابندیوں کے بعد حریف سیٹیلائٹ کمپنیاں ایلون مسک کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ اس واقعہ نے فوجی مواصلاتی نظام کے لیے ایک ہی نجی کمپنی پر انحصار کے خطرات کو اجاگر کردیا ہے۔

Starlink.Photo:INN
اسٹار لنک۔ تصویر:آئی این این

یوکرین میں اسپیس ایکس کی اسٹارلنک سروس پر پابندیوں کے بعد حریف سیٹیلائٹ کمپنیاں ایلون مسک کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ اس واقعے نے فوجی مواصلاتی نظام کے لیے ایک ہی نجی کمپنی پر انحصار کے خطرات کو اجاگر کردیا ہے۔ اسٹارلنک سروس میں خلل سے یوکرین کی ڈرون کارروائیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں، جس کے بعد یورپ اور امریکہ کے حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایک ہی تجارتی کمپنی کے فیصلوں پر انحصار کرنے والے فوجی مواصلاتی نظام کس قدر غیر محفوظ ہوسکتے ہیں۔
امریکی ادارے امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، اسپیس ایکس۱۱؍ ہزار سے زیادہ سیٹلائٹس کے ساتھ عالمی سیٹیلائٹ کنیکٹیویٹی مارکیٹ میں سرفہرست ہے۔ فرانس کی کمپنی یوٹلسٹ اپنے ون ویب نیٹ ورک میں  ۶۰۰؍ سے زیادہ سیٹیلائٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اسٹارلنک نے رواں موسم گرما میں بتایا تھا کہ ۱۶۰؍ سے زیادہ ممالک اور خطوں میں اس کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اسپیس ایکس کے وسیع نیٹ ورک کے باعث یورپی ممالک کے لیے اس کمپنی سے زیادہ خودمختاری حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
فن لینڈ کی کمپنیوں آئی سائی (ICEYE) اور نوکیا نے گزشتہ ہفتے یوکرین کی وزارت دفاع کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا، جس کے تحت خودمختار سیٹیلائٹ مواصلاتی نظام تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔آئی سائی کے ایک ترجمان نے ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ ان کے ابتدائی سیٹیلائٹس۲۰۲۸ء میں خلا میں بھیجے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد سیٹیلائٹ رابطے کی ضرورت کئی برسوں سے محسوس کی جارہی ہے، خصوصاً یورپ میں۔

یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت میں بیان

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے کے اعلان کے موقع پر کہا کہ جدید جنگ نے ثابت کردیا ہے کہ قابل اعتماد مواصلاتی نظام قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ ہمیں ایسی صلاحیتوں پر انحصار کرنا چاہیے جن پر ہمارا اپنا کنٹرول ہو۔  متبادل نظام تیار کرنے کی کوششیں اس وقت تیز ہوئیں جب وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ مسک نے یوکرین میں اسٹارلنک سروس کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان اطلاعات میں وائٹ ہاؤس کے ملوث ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا، تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس الزام کی تردید کی۔۲۴؍ اکتوبر کو مسک نے کہا تھا کہ یوکرین نے ڈرون حملوں کے لیے اسٹارلنک نیٹ ورک استعمال کرکے  سروس کی شرائط کی خلاف ورزی  کی ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کے استعمال کی اجازت دینے والی  خامیاں  حال ہی میں دور کردی گئی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد یوٹلسٹ میں بھی دلچسپی بڑھ گئی۔ یوکرین میں اسٹارلنک کی سروس محدود کیے جانے کے بعد یوٹلسٹ کے حصص کی قیمت میں اضافہ ہوا، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ژاں فرانسوا فالاخر نے یوکرین میں کمپنی کی موجودگی اور ڈرون کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت کو نمایاں کیا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ بلے بازی رینکنگ میں ابھیشیک شرما دوبارہ نمبر ایک بن گئے

فالاخر نے گزشتہ ہفتے فرانسیسی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کی سروس منقطع کرنے کا فیصلہ صرف چیف ایگزیکٹیو کے اختیار میں نہیں ہوگا۔ ان کے بیان کے ترجمے کے مطابق، انہوں نے کہا،  یہ فیصلہ ہمارے بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے، جس میں یورپ میں رائج روایتی طرز حکمرانی کے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔  بلومبرگ اکنامکس میں دفاعی امور کی سربراہ ربیکا واسر نے کہا کہ اسٹارلنک کے واقعے نے نہ صرف امریکہ کے سلامتی سے متعلق عزم بلکہ ضروری خدمات قابل اعتماد طریقے سے فراہم کرنے کی امریکی کمپنی کی صلاحیت پر بھی اعتماد میں کمی کو ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ایکسیوس سے کہاکہ میرا خیال ہے کہ خلائی مواصلات کے شعبے میں یورپی خودمختار صلاحیتیں تیار کرنے کی کوششیں مزید تیز ہوں گی۔ یہ بحث واشنگٹن تک بھی پہنچ گئی ہے۔ امریکی ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے گزشتہ ہفتے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو لکھے خط میں کہا کہ سیٹیلائٹ رابطہ جدید فوجی کارروائیوں کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے۔ بلومینتھل نے خط میں لکھاکہ سیٹیلائٹ مواصلات اب محض معاون خدمات نہیں رہ گئی ہیں۔ یوکرین کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ کنٹرول کا ایک ہی مرکز ان فوجی دستوں کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK