Updated: October 07, 2026, 10:34 AM IST
| Bengaluru
حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے دلت طالب علم روہت ویمولا کی موت پر طلبہ نے بنگلور میں احتجاج کیا جس کے بعد پولیس کی جانب سےطلبہ پرغیر قانونی طور پر جمع ہونے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔،طلبہ نے بعد میںاس معاملے کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اس معاملے کو منسوخ کر دیا ہے۔
روہت ویمولا کی موت پر احتجاج کی ایک تصویر۔تصویر: ایکس
کرناٹک ہائی کورٹ نے حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت طالب علم روہت ویمولا کی موت کے سلسلے میں ۲۰۱۶ء میں احتجاج کرنے والے ۱۵؍ افراد کے خلاف قائم مجرمانہ کارروائی کو منسوخ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ روہت ویمولا نے مبینہ طور پر ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے بھید بھاؤ سے تنگ آ کر خودکشی کر لی تھی ۔جسٹس ایچ پی سندیش نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزمان غیر قانونی طور پر جمع ہونے کے مجرم نہیں ہیں، کیونکہ لائسنسنگ اینڈ کنٹرولنگ آف اسمبلیز اینڈ پبلک پروسیشنز (بنگلور سٹی) آرڈر ۲۰۰۹ء کے تحت صرف ۲۵۰؍ سے زائد افراد کے جمع ہونے کی صورت میں ہی پولیس سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پولیس کا دعویٰ تھا کہ موقع پر ۱۰۰؍ سے ۱۵۰؍ افراد کی بھیڑ جمع تھی، لیکن اس معاملے کی چارج شیٹ میں صرف ۱۵؍ افراد کے ہی نام شامل کئے گئے تھے۔عدالت نے مزید کہا، ’’چارج شیٹ میں دفعہ ۲۸۳؍ اور ۳۴۱؍ اور غیر قانونی اجتماع کے دیگر الزامات کا ذکر کرنے کے علاوہ، کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ملزمان نے قانون کی کس شق کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ۱۰؍ فروری ۲۰۱۶ء کو، درخواست گزار راج بھون روڈ پر واقع کیپٹل ہوٹل کے سامنے جمع ہوئے تھے اور انہوں نے روہت ویمولا کی موت پر نعرے بازی کی تھی اور پرچم لہرائے تھے۔ بعد ازاں انہیں کبّن پارک پولیس اسٹیشن کی طرف سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف رپورٹ درج کی گئی تھی۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا، جس کے بعد ملزمان نے اپنے خلاف درج کارروائی کو منسوخ کروانے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔کیس کے تمام حقائق اور حالات پر غور کرنے کے بعد، عدالت نے ۳۰؍ ستمبر کو تمام ۱۵؍ درخواست گزاروں کے خلاف مجرمانہ کارروائی منسوخ کر دی۔
واضح رہے کہ اس کیس میں درخواست گزاروں کی طرف سے ایڈووکیٹ محمد طاہر پیش ہوئے، جبکہ ریاست کی نمائندگی ہائی کورٹ کے گورنمنٹ پلیڈر دواکر مدور نے کی۔