• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دادر اسٹیشن پرحادثے سے بچانے کے لئے رسّی کا سہارا ، بھیڑ کو منقسم کرنے کی کوشش

Updated: January 23, 2026, 7:47 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

پلیٹ فارم نمبر دو کوپلیٹ فارم نمبر ایک میںضم کرنے کےباوجود مسئلہ حل نہیں ہوا ۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے رسّی کے علاوہ ہمہ وقت پولیس کے جوانوں کی تعیناتی

A railway policeman is monitoring Dadar platform number one by hanging a rope.
دادر پلیٹ فارم نمبر ایک پر رسی لگاکر ریلوے پولیس کا جوان نگرانی کررہا ہے۔

دادر اسٹیشن (سینٹرل) پر پلیٹ فارم نمبر ۲؍ کو ختم کرکے پلیٹ فارم نمبر ایک میں ضم کرنے کے باوجود حادثے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ اسی لئے ٹرین سے اترکر باہر جانے اور ٹرین میں سوار ہونے والے مسافروں کی بھیڑ کو منقسم کرنے کے لئے رسی باندھ کر کنٹرول کیا جارہا ہے۔ رسی باندھنے کے ساتھ ہمہ وقت پولیس کے جوان تعینات رہتے ہیں تاکہ حادثہ نہ ہو۔ 
 یادر ہےکہ جگہ تنگ ہونے اورمسافروں کی کثرت کے سبب پلیٹ فارم نمبردو کوختم کرکے دوسری جانب منتقل کیا گیاتاکہ دونوں پلیٹ فارم پر ایک ساتھ ٹرینیں نہ رکیںکیونکہ اس سےناقابل بیان حد تک بھیڑبھاڑ  ہوجاتی تھی ۔ اس کے باوجود اب بھی یہ مسئلہ پوری طرح سےحل نہیںہوا ہے ۔ یہی وہ ایک نمبر پلیٹ فارم ہے جہاں اُس وقت جب یہ تبدیلی نہیںہوئی تھی موضع کھدرا ،ضلع بستی (یوپی) کے رہنے والے ایک حافظ قرآن اپنی اہلیہ کےساتھ سفرکررہے تھے ، اہلیہ تو لوکل ٹرین میں سوار ہوگئیں مگر وہ خود سوار نہ ہوسکے اورٹرین میں سوار ہونے کی کوشش میں بیگ لے کردوڑتے ہوئےپلیٹ فار م کے آخری حصہ میںخلاء میںگرکر جاں بحق ہوگئے تھے۔ 
شام کے وقت زیادہ مسئلہ رہتا ہے 
 حافظ عبدالرحمٰن خان نےنمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’ میں اکثر سی ایس ایم ٹی سے ٹرین میں سوار ہوتا ہوں اور کاندیولی جانے کےلئے دادر میں ٹرین بدلتا ہوں، شام کے وقت زبردست بھیڑ ہوجاتی ہے اور حادثے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ رسّی باندھنے سے یہ ہوتا ہے کہ ٹرین سے اترنے والے زینے کا استعمال کرتے ہوئے آگے نکلتے ہیں۔ پھر بھی بھیڑبھاڑ کےسبب حادثے کا اندیشہ برقرار رہتا ہے۔‘‘ ایک دوسرے مسافر عبدالجبار خان نے بتایاکہ’’ وہ بھی اکثردادر سے ٹرین بدلتے ہیں۔ پلیٹ فارم نمبر ایک پر مسافروں کی کثرت کےسبب حادثے کا خطرہ رہتا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کو ملاڈ میںپلیٹ فارم نمبر ایک پر دونوں جانب ٹرین میں چڑھنے اترنے کا جس طرح نظم کیا گیا ہےاورحادثے کا خطرہ ٹل گیا ہے،اسی طرح دادر میںبھی کرنا چاہئے مگر دادر میںایسا کرنا آسان نہیںلگتاہے۔‘‘ 
ہر وقت نگرانی اوررسّی کا سہارا 
 سینٹرل ریلوے کے ایک سینئر افسر سے بات چیت کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ’’پلیٹ فارم نمبر دو کو پلیٹ فارم نمبرایک میںضم کرنے کےبعد پلیٹ فارم نمبر ایک پرگنجائش تو بڑھی ہے لیکن یہ صحیح ہے کہ اس تبدیلی کے باوجود مسئلہ پوری طرح سے حل نہیں ہوا ہے۔ اس کی دو وجہ ہے۔ اول یہ کہ پلیٹ فارم نمبر ایک پر محض ایک جانب ہی ٹرین میں سوار ہونے اور اترنے کی گنجائش ہے۔ پلیٹ فارم نمبر ۲؍ کو ملانے سے گنجائش تو ضرور بڑھ گئی مگر ایک جانب ہی ٹرین رکنےکے سبب ٹرین سے اترنے اورپلیٹ فارم پرآکر ٹرین میںسوار ہونے والوں کا مسئلہ تواپنی جگہ برقرارہے اورزیادہ بھیڑبھاڑ کے سبب حادثے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اسی لئے رسّی باندھی گئی ہے اورایک جانب ایسکیلیٹر لگایا گیا ہے اوراسی سے متصل زینہ بھی بنایا گیاہے ۔‘‘
  اس آفیسر کایہ بھی کہنا تھا کہ’’ ہر ممکن احتیاط برتی جاتی ہے اورہمہ وقت نگرانی رکھی جاتی ہے تاکہ کوئی حادثہ نہ ہو، اب تک اس میںکامیابی ملی ہے۔‘‘ اس سلسلےمیںسینٹرل ریلوے کےچیف پی آر او ڈاکٹر سوپنل نیلا نے بتایاکہ ’’ دراصل دادر انتہائی بھیڑ بھاڑ والا اسٹیشن ہے اور یہ سینٹرل اورویسٹرن ریلوے کو جوڑنے کے علاوہ یہاں ٹرمنس بھی ہےاس لئے مسافروں کی مزیدکثرت ہوتی ہے۔ پلیٹ فارم نمبر دو کو ایک میںضم کرنے کے بعد کافی گنجائش پیدا ہوگئی ہے لیکن یہ درست ہے کہ بھیڑبھاڑ کے سبب یہ بھی ناکافی معلوم ہوتا ہے ، اسی سبب حادثے کےاندیشے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتامگر حادثات کوٹالنے کے لئے رسّی کاسہارا لینے کے ساتھ پولیس کے جوانوں کی تعیناتی اورسی سی ٹی وی کیمروں سے بھی ہمہ وقت نگرانی کی جاتی ہے اور جیسے ہی بہت زیادہ بھیڑبھاڑ دکھائی دیتی ہے، پولیس اورریلوے انتظامیہ الرٹ ہوجاتا ہے ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK