گجرات اور ایم پی میں آخری رسومات کیلئے لاشوں کی قطار، حالات ابتر

Updated: April 15, 2021, 8:15 AM IST

دونوں ہی ریاستوں کی حکومتوں پرکورونا سے ہونے والی اموات کی درست تعداد بتانے سے گریز کرنے کا الزام ، شدید تنقیدیں

Cremation ground. Picture INN
شمشان بھومی. تصویرآئی این این

کورونا سےپورے ملک میں حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں لیکن مدھیہ پردیش اور گجرات میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔ اس کا پتہ  وہاں  شمشان بھومی پہنچنے والی لاشوں کی تعداد سے چل رہا ہے کیوں کہ ایم پی کے بھوپال ، اندور اور گجرات کے سورت ، احمد آباد اور بڑودہ جیسے شہروں میںآخری رسومات کے لئے شمشان بھومی کے باہر لاشوں کی قطار لگ گئی ہے لیکن سپرد آتش کرنے کا نمبر ۳؍ سے ۴؍ دن بعد آرہا ہے۔این ڈی ٹی وی کی جانب سے جاری ہونے والے ویڈیو میں سورت میں شمشان بھومی کے باہر ایمبولنس کی قطار لگی ہوئی نظر آرہی ہے۔ یہی حال بڑودہ اور احمدآباد کا بھی ہے جہاں پر خاص طور پر شمشان بھومیوں کے باہر لاشوں کے ساتھ ان کے رشتے دار بھی نظر آرہے ہیں ۔ ایم پی کے بھوپال میں حالات کافی خراب بتائے جارہے ہیں کیوں کہ یہاں پر گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں میں  ۱۸۷؍لاشیں شمشان بھومی لائی گئی ہیں  جبکہ حکومت کے ریکارڈ  کے مطابق  صرف ۵؍ اموات کورونا سے ہوئی ہیں۔
 کچھ یہی  حال  احمد آباد کا بھی ہے جہاں پر حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے ۱۲؍ اپریل کو ۲۰؍ اموات ہوئی ہیں لیکن گجراتی میڈیا کے مطابق اس دن ۶۳؍ اموات ہوئی تھیں اور حکومت جان بوجھ کر اعداد و شمار کم بتارہی ہے۔ بڑودہ اور سورت میں تو حالات اور بھی ابتر بتائے جارہے ہیں۔ مقامی میڈیاکہہ رہا ہے کہ یہاں پر کورونا سے ۳؍ گنا اموات ہو رہی ہیں لیکن سرکار  درست اعداد و شمار بتانے سے گریز کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ وجے روپانی حالانکہ اس سے صاف انکار کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو زائد اموات سامنے آئی ہیں وہ کورونا کے مشتبہ معاملات ہیں۔ انہیں بھی کورونا کے پروٹوکول کے مطابق ہی سپرد آتش کیا جا رہا ہے۔ بہر حال ان دونوں ریاستوں میں حالات کافی ابتر ہیں اور دونوں ہی حکومتیں انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK