• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ایس ایس پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام، پریانک کھرگے کا قانونی تحقیقات کا مطالبہ

Updated: February 17, 2026, 10:31 AM IST | Agency | Bengaluru

کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے آر ایس ایس پر مالی شفافیت کی کمی کا الزام لگایا ہے اور تنظیم کو آئینی و قانونی دائرہ ٔکار میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہاں بنگلور میں ایک نجی تقریب کے دوران آر ایس ایس پر منی لانڈرنگ سمیت مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔

Congress Leader And Karnataka Minister Priyank Kharge.Photo:INN
کانگریس لیڈر اور کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے۔ تصویر:آئی این این

کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے آر ایس ایس پر مالی شفافیت کی کمی کا الزام لگایا ہے اور تنظیم کو آئینی و قانونی دائرہ ٔکار میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔  انہوں نے یہاں بنگلور میں ایک نجی تقریب کے دوران آر ایس ایس پر منی لانڈرنگ سمیت مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چندہ اور’گرو دکشنا‘ جیسے مختلف ناموں کی مدد سے بھاری رقوم جمع کی جا رہی ہیں اور اس کے ذرائع اور استعمال کے حوالے سے کوئی شفافیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ وہ (آر ایس ایس) چاہتے ہیں کہ ہم اچھے شہری بنیں اور انکم ٹیکس ادا کریں، لیکن وہ خود ٹیکس سے مستثنیٰ رہنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمیں اس پر سوال اٹھانا ہوگا۔‘‘ 
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس سے وابستہ تقریباً ۲؍ ہزار ۵۰۰؍ ادارے ہیں اور امریکہ و برطانیہ سمیت کئی ممالک سے فنڈز جمع کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک بڑا منی لانڈرنگ ریکیٹ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب باقی سب سے ایک ایک روپے کا حساب مانگا جاتا ہے، تو آر ایس ایس کے فنڈز کے ذرائع اور اخراجات پر جوابدہی کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جب تک آر ایس ایس آئین کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہوتی، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کوئی بھی تنظیم قانون سے بالاتر نہیں ہونی چاہئے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:مفتی شیخ ابوبکر کی وزیر اعظم مودی سے اہم ملاقات،ملک میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ پرگفتگو

ان کا یہ تبصرہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کے جواب میں آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس ’افراد کی تنظیم‘ہے جس کیلئے اسے رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ پریانک کھرگے نے اس دلیل سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی دیگر تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:داداصاحب پھالکے نےہندوستانی فلم سازی میں اہم رول نبھایا

اس مسئلے پر کرناٹک کی کانگریس حکومت اور آر ایس ایس کے درمیان۲۰۲۵ء کے آخر سے تنازع جاری ہے۔ کھرگے نے وزیر اعلیٰ سدرامیا کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ آر ایس ایس سرکاری اسکولوں اور عوامی میدانوں کو اپنی شاخوں اور پروگراموں کیلئے استعمال کر رہی ہے، اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ایک پنچایت افسر کو آر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت کرنے پر معطل کر دیا گیا، جس کے بعد بی جے پی نے کانگریس حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگایا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK