کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے آر ایس ایس پر مالی شفافیت کی کمی کا الزام لگایا ہے اور تنظیم کو آئینی و قانونی دائرہ ٔکار میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہاں بنگلور میں ایک نجی تقریب کے دوران آر ایس ایس پر منی لانڈرنگ سمیت مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔
کانگریس لیڈر اور کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے۔ تصویر:آئی این این
کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے آر ایس ایس پر مالی شفافیت کی کمی کا الزام لگایا ہے اور تنظیم کو آئینی و قانونی دائرہ ٔکار میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہاں بنگلور میں ایک نجی تقریب کے دوران آر ایس ایس پر منی لانڈرنگ سمیت مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چندہ اور’گرو دکشنا‘ جیسے مختلف ناموں کی مدد سے بھاری رقوم جمع کی جا رہی ہیں اور اس کے ذرائع اور استعمال کے حوالے سے کوئی شفافیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ وہ (آر ایس ایس) چاہتے ہیں کہ ہم اچھے شہری بنیں اور انکم ٹیکس ادا کریں، لیکن وہ خود ٹیکس سے مستثنیٰ رہنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمیں اس پر سوال اٹھانا ہوگا۔‘‘
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس سے وابستہ تقریباً ۲؍ ہزار ۵۰۰؍ ادارے ہیں اور امریکہ و برطانیہ سمیت کئی ممالک سے فنڈز جمع کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک بڑا منی لانڈرنگ ریکیٹ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب باقی سب سے ایک ایک روپے کا حساب مانگا جاتا ہے، تو آر ایس ایس کے فنڈز کے ذرائع اور اخراجات پر جوابدہی کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جب تک آر ایس ایس آئین کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہوتی، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کوئی بھی تنظیم قانون سے بالاتر نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:مفتی شیخ ابوبکر کی وزیر اعظم مودی سے اہم ملاقات،ملک میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ پرگفتگو
ان کا یہ تبصرہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کے جواب میں آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس ’افراد کی تنظیم‘ہے جس کیلئے اسے رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ پریانک کھرگے نے اس دلیل سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی دیگر تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں اور ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:داداصاحب پھالکے نےہندوستانی فلم سازی میں اہم رول نبھایا
اس مسئلے پر کرناٹک کی کانگریس حکومت اور آر ایس ایس کے درمیان۲۰۲۵ء کے آخر سے تنازع جاری ہے۔ کھرگے نے وزیر اعلیٰ سدرامیا کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ آر ایس ایس سرکاری اسکولوں اور عوامی میدانوں کو اپنی شاخوں اور پروگراموں کیلئے استعمال کر رہی ہے، اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ایک پنچایت افسر کو آر ایس ایس کے پروگرام میں شرکت کرنے پر معطل کر دیا گیا، جس کے بعد بی جے پی نے کانگریس حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگایا۔