Updated: August 06, 2026, 8:04 PM IST
| Mumbai
ٹی وی سیریل Anupamaa کی اداکارہ اور بی جے پی لیڈر روپالی گنگولی اپنے ایک متنازع سوشل میڈیا بیان کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ ایک وائرل ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے روپالی گنگولی نے لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اس طرح توہین کے نتائج ہونے چاہئیں اور ’’کاش وہ آمر (Dictator) ہوتے۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل سامنے آیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر روپالی گنگولی۔ تصویر: آئی این این
مشہور ٹی وی اداکارہ، Anupamaa کی مرکزی اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی لیڈر روپالی گنگولی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد تنازع کا مرکز بن گئی ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر ایک کم عمر لڑکی وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتی دکھائی دی۔ ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اسی ویڈیو پر ردِعمل دیتے ہوئے روپالی گنگولی نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’وزیر اعظم کی اس طرح توہین کے نتائج ہونے چاہئیں!!! کاش وہ آمر ہوتے!!!‘‘ ان کے اس مختصر تبصرے نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی اور ہزاروں صارفین نے اس پر اپنے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’ملک میں جوابدہی طے کرنے کیلئے ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے‘
اداکارہ کے بیان کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور کسی عوامی شخصیت کی جانب سے آمریت کی خواہش کا اظہار مناسب نہیں۔ کئی صارفین نے لکھا کہ اختلافِ رائے اور تنقید جمہوریت کا حصہ ہیں، جبکہ کچھ نے تاریخی آمروں کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ کے الفاظ کو نامناسب قرار دیا۔ دوسری جانب بعض صارفین نے روپالی گنگولی کی حمایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی منتخب وزیر اعظم کی توہین کی جائے تو اس پر کارروائی ہونی چاہیے اور اداکارہ کا اصل مقصد توہین کے خلاف سخت کارروائی کی بات کرنا تھا، نہ کہ آمریت کی حمایت۔ تاہم اس معاملے پر سوشل میڈیا پر آرا واضح طور پر تقسیم دکھائی دیں۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کا قلعہ کہلانے والے بانکی پور میں پارٹی کو شکست کیسے ہوئی؟
واضح رہے کہ روپالی گنگولی گزشتہ برس بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں اور اس کے بعد سے وہ متعدد سیاسی اور سماجی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں بیانات اور بعض ناقدین کے خلاف اپنے تبصروں کی وجہ سے خبروں میں رہ چکی ہیں۔ تازہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف سیاسی اور سماجی معاملات پر سوشل میڈیا کا کردار مسلسل زیر بحث ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کے بیانات چند لمحوں میں قومی سطح کی بحث بن جاتے ہیں، خصوصاً جب وہ جمہوریت، آزادیِ اظہار اور سیاسی قیادت جیسے حساس موضوعات سے متعلق ہوں۔ فی الحال روپالی گنگولی نے اپنے متنازع بیان پر کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا ہے۔