• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا ایس ایم آر برآمدات کے لیے عملی منصوبے کا اعلان

Updated: September 23, 2026, 9:04 PM IST | New York

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے دنیا بھر میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر ایک عملی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ اس سال کے اوائل میں انقرہ میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کو آگے بڑھاتا ہے۔

Nuclear Plant.Photo:INN
نیوکلیائی پلانٹ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے دنیا بھر میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر ایک عملی منصوبے  کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ اس سال کے اوائل میں انقرہ میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کو آگے بڑھاتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی سطح پر جوہری توانائی کی صلاحیت میں توسیع کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تینوں ممالک کے وزارتی سطح کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ نیا منصوبہ  دیگر ممالک میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی تنصیب سے متعلق تعاون کی یادداشت  کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس پر تینوں ممالک نے ۷؍ جولائی کو دستخط کیے تھے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایس ایم آر ری ایکٹرز کے بیڑے کی تنصیب کے ایک پرعزم ایجنڈے  کے ذریعے تینوں ممالک کے مشترکہ سلامتی مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔

یہ بھی پڑھئے:نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر نیتن یاہو کی ویڈیو، امریکی سینیٹر کی شدید تنقید

الگ سے، نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے صنعت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جس کے تحت امریکہ کی جی ای ویرنووا، جاپان کی ہٹاچی، جنوبی کوریا کی سام سنگ سی اینڈ ٹی اور پولینڈ کی ایس جی ای نے یورپ بھر میں بی ڈبلیو آر ایکس ۳۰۰؍ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی مشترکہ تنصیب پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ چار ملکی صنعتی اتحاد کا مقصد  یورپ بھر میں لاکھوں افراد کو قابل اعتماد بنیادی جوہری بجلی فراہم کرنا  ہے اور آنے والے برسوں میں ری ایکٹرز میں ۱۵۰؍ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ واشنگٹن نے اس صنعتی شراکت داری کو اس امر کی مثال قرار دیا کہ اتحادی ممالک اپنی  ایک دوسرے کی تکمیلی صنعتی صلاحیتوں  سے فائدہ اٹھا کر ایسے ری ایکٹرز کی تنصیب تیز کر سکتے ہیں جو جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترتے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:میرا خواب پورا ہوگیا: ایشین گیمز میں پہلا تمغہ جیتنے کے بعد میرابائی چانوجذباتی ہوئیں

یہ اعلانات اس سہ فریقی مفاہمتی یادداشت کے بعد سامنے آئے ہیں جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کے جاپانی و جنوبی کوریائی ہم منصبوں نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ عالمی جوہری ری ایکٹرز کی برآمدات میں روس اور چین کے غلبے کا مقابلہ کرنے کی وسیع تر امریکی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو جوہری توانائی میں توسیع کے خواہاں ممالک کے لیے متبادل سپلائرز کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK