• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مکہ معاہدہ اتحاد بین المسلمین کیلئے اٹھایا گیا قدم ہے: ایرانی صدر

Updated: September 29, 2026, 1:39 PM IST | Agency | Tehran

ایران نے کہا ہے کہ مکّہ معاہدہ اتحاد بین المسلمین کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے۔ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے  اپنے ایک بیان میں کہا  کہ ہماری نگاہ میں،  سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والامکہ دفاعی معاہدہ مسلمانوں کی یکجہتی اوراسلامی اتحاد کے حصول کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

Iranian President Masoud Pezeshkian. Photo: INN
ایران کے صدرمسعود پزشکیان۔ تصویر: آئی این این

ایران نے کہا ہے کہ مکّہ معاہدہ اتحاد بین المسلمین کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے۔ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے  اپنے ایک بیان میں کہا  کہ ہماری نگاہ میں،  سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والامکہ دفاعی معاہدہ مسلمانوں کی یکجہتی اوراسلامی اتحاد کے حصول کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن کے لئے  انٹرویو میں خطّے کے سیاسی حالات، امریکہ- ایران مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور علاقائی ممالک کے ساتھ تہران کے تعلقات  پر گفتگو کی۔  مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ یہ معاہدہ مسلمانوں کے اتحاد کیلئے ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے، پزشکیان نے کہا کہ یہ قدم  اسلامی اتحاد کے حصول کی جانب  بڑھنے والا قدم ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نیتن یاہو کا ابوظہبی کا غیر اعلانیہ دورہ ،محمد بن زاید سے ملاقات

امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں انہوں  نے کہا ہے کہ تہران، امریکہ کے ساتھ مذا کرات کے حوالے سے، واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرتا۔ ہمیں امریکی فریق پر کوئی اعتماد نہیں ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کس بنیاد پر معاہدہ ہو سکتا ہے۔ پیزشکیان نے زور دے کر کہا  ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ، ایران کی تازہ ترین تجویز کے بارے میں، اپنا موقف واضح کرے گا۔ ہم نے، ثالث ممالک  قطر اور پاکستان کی وساطت سے، ایران کے پیغامات واشنگٹن تک پہنچائے ہیں۔

’’حوثیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں‘‘
یمن میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے صدر پزشکیان نے کہا  کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حوثیوں اور سعودی کے درمیان مسائل کو بات چیت  سے حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان بھائی  سے نہیں لڑنا چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK