• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ: مسلم دکاندار کے دفاع پر۲؍ ہندو شہریوں کے خلاف ایف آئی آر

Updated: February 02, 2026, 5:31 PM IST | Dehradun

اتراکھنڈ کے پاؤری گڑھوال میں مسلم دکاندار کو ہراساں کرنے کے واقعے پر اعتراض کرنے والے ایک ہندو شہری اور ان کے ساتھی کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کر کی ہے۔ یاد رہے کہ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اتراکھنڈ کے ضلع پاؤری گڑھوال میں ایک مسلم دکاندار کے خلاف مبینہ ہراسانی کے واقعے پر ہجوم کی مخالفت کرنے والے دو افراد کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی اس شکایت پر کی گئی جس میں الزام لگایا گیا کہ مذکورہ افراد نے عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالا اور ہجوم سے جھڑپ کی۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ ۲۶؍ جنوری کو اس وقت پیش آیا تھا جب کچھ افراد نے ایک مسلم دکاندار وکیل احمد کی دکان کے نام پر اعتراض کیا۔ دکاندار کی دکان کے نام میں لفظ ’’بابا‘‘ شامل تھا، جس پر ہجوم نے دعویٰ کیا کہ یہ نام مذہبی شناخت چھپانے کے مترادف ہے اور عوام کو گمراہ کرتا ہے۔ اس دوران قریب واقع جِم مالک دیپک کمار اور وجے راوت نے ہجوم کی کارروائی کی کھلے عام مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھئے: دلائی لامہ نے ’میڈیٹیشنز‘ کے لیے پہلا گریمی جیتا

واقعے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جس میں دیپک کمار ہجوم سے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اگر دیگر دکانیں بھی ’’بابا‘‘ نام استعمال کر رہی ہیں تو صرف ایک مسلم دکاندار کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دکان گزشتہ ۳۰؍ برس سے قائم ہے اور اس کا نام اچانک تبدیل کرنے کا مطالبہ ناانصافی ہے۔ پولیس نے دیپک کمار اور وجے راوت کے خلاف مختلف تعزیراتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ ایف آئی آر میں متعدد نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: گریمی ۲۰۲۶ء: بلی ایلش، ٹیڈ بنی، جسٹن بیبر سمیت کئی فنکاروں کی ٹرمپ پر تنقید

بعد ازاں دیپک کمار نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انسانیت اور آئینی مساوات کے حق میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو سب سے پہلے ایک انسان سمجھتے ہیں اور مذہبی بنیاد پر امتیاز کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی صارفین نے ایف آئی آر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہراسانی کی مخالفت کرنے والوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے بھی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین اور بھائی چارے کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مذہبی شناخت، کاروباری آزادی اور شہری حقوق سے متعلق معاملات حساس بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور سماجی ہم آہنگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK