Inquilab Logo

برج بھوشن کے بیٹے کرن کوٹکٹ دینے پر ساکشی ملک، بجرنگ پونیا اورونیش پھوگاٹ ناراض

Updated: May 03, 2024, 6:12 PM IST | New Delhi

ریو گیمز کی کانسی کا تمغہ جیتنے والی اور سابق پہلوان ساکشی ملک نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن سنگھ کے بیٹے کرن کو قیصر گنج سیٹ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ، بجرنگ پونیا، اور ونیش پھوگاٹ نے بھی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

A scene of wrestlers protesting. Photo: INN
پہلوانوں کے احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

ریو گیمز میں کانسہ کا تمغہ جیتنے والی اور سابق پہلوان ساکشی ملک نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن سنگھ کے بیٹے کرن کو قیصر گنج سیٹ کیلئے اپنا امیدوار نامزد کرنے کی مذمت کی ہے۔ بی جے پی کے اس فیصلے نے ان پہلوانوں میں غم و غصے کو جنم دیا ہے، بشمول ساکشی، بجرنگ پونیا، اور ونیش پھوگاٹ، جنہوں نے برج بھوشن پر اپنے دور میں جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ساکشی نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ملک کی بیٹیاں ہار گئیں، برج بھوشن جیت گئے۔ ہم سب نے اپنا کریئر داؤ پر لگا دیا، دھوپ اور بارش میں کئی دن سڑکوں پر سوئے، آج تک برج بھوشن کو گرفتار نہیں کیا گیا، ہم کچھ نہیں مانگ رہے تھے، ہم صرف انصاف مانگ رہے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افضال انصاری کے سامنے ان کی بیٹی بھی پرچۂ نامزدگی داخل کریں گی

انہوں نے سوال کیا کہ’’گرفتاری چھوڑو، آج اس کے بیٹے کو ٹکٹ دے کر تم نے ملک کی کروڑوں بیٹیوں کے حوصلے توڑ دیئے، ٹکٹ صرف ایک خاندان کو جاتا ہے تو کیا ملک کی حکومت ایک آدمی کے سامنے اتنی کمزور ہے؟ بھگوان شری رام کے نام پرصرف ووٹوں کی ضرورت ہے۔ رام کے دکھائے ہوئے راستے کا کیا ہوگا؟‘‘
برج بھوشن کے بیٹے کی نامزدگی پہلوانوں کے اس مطالبے کے باوجود ہوئی ہے کہ ان کے کسی رشتہ دار یا قریبی ساتھی کو ڈبلیو ایف آئی الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تاہم، بی جے پی لیڈر کے قریبی ساتھی، سنجے سنگھ کو ڈبلیو ایف آئی کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا، جس سے ساکشی نے احتجاجاً اس کھیل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ اگرچہ بجرنگ پونیا اور ونیش پھوگاٹ نے اس معاملے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن انہوں نے بی جے پی کے فیصلے کے حوالے سے کئی تنقیدی تبصرے دوبارہ پوسٹ کئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK