• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی کارپوریٹ شعبے میں ۲۰۲۶ء میں تنخواہوں میں ۱ء۹؍ فیصد تک اضافہ ممکن

Updated: February 23, 2026, 4:05 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں کارپوریٹ شعبے میں سال ۲۰۲۶؍ کے دوران اوسطاً ۱ء۹؍فیصد تنخواہوں میں اضافے کی توقع ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی) تنخواہوں میں اضافے میں سب سے آگے رہیں گے۔

Salary Increase.Photo:INN
تنخواہ میں اضافہ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان  میں کارپوریٹ شعبے میں سال ۲۰۲۶؍ کے دوران اوسطاً ۱ء۹؍فیصد تنخواہوں میں اضافے کی توقع ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (جی سی سی) تنخواہوں میں اضافے میں سب سے آگے رہیں گے۔ای وائی انڈیا  کی نئی ’’فیوچر آف پے‘‘ رپورٹ کے مطابق ڈجیٹل اور ٹیکنالوجی صلاحیتوں کی عالمی سطح پر مضبوط مانگ کے باعث جی سی سی میں اوسطاً ۴ء۱۰؍ فیصد تک تنخواہوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی خدمات کے شعبے میں تقریباً ۱۰؍ فیصد تنخواہوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس کے بعد ای کامرس کے شعبے میں ۹ء۹؍ فیصد اور لائف سائنسز اور فارماسیوٹیکلز کے شعبے میں  ۷ء۹؍فیصد تک تنخواہوں میں اضافے کا اندازہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملازمت چھوڑنے (ایٹریشن) کی شرح میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔۲۰۲۵ء میں مجموعی ایٹریشن کی شرح کم ہو کر ۴ء۱۶؍ فیصد رہ گئی، جو ۲۰۲۴ءمیں ۵ء۱۷؍ فیصد تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزگار کی منڈی اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رنجی فائنل: میزبان کرناٹک کا مقابلہ تاریخ رقم کرنے کے لئے پر عزم جموں و کشمیر سے ہوگا

 تاہم ۸۰؍فیصد سے زیادہ ملازمین اپنی مرضی سے ملازمت چھوڑ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ برطرفی کی وجہ سے نہیں بلکہ بہتر مواقع کی تلاش میں ملازمت تبدیل کر رہے ہیں۔ مالیاتی خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ ۲۴؍ فیصد ایٹریشن ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ پروفیشنل سروسز اور ہائی ٹیک و آئی ٹی شعبوں میں بھی ملازمت چھوڑنے کی شرح نسبتاً زیادہ رہی۔اس کے مقابلے میں جی سی سی میں ایٹریشن کی شرح نسبتاً کم، تقریباً ۱ء۱۴؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ای وائی انڈیا میں ٹوٹل ریوارڈز، ایچ آر ٹیکنالوجی اور لرننگ کے پارٹنر اور لیڈر ابھیشیک سین نے کہا کہ کمپنیاں اب ٹیلنٹ میں سرمایہ کاری کے طریقوں پر دوبارہ غور کر رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’تنخواہ کا مستقبل صرف سالانہ اضافے کے سائز پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ کن مہارتوں کو انعام دیا جائے اور مسابقت اور طویل مدتی استحکام کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:میکسیکو: کارٹیل لیڈر ہلاک،ہندوستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت

رپورٹ کے مطابق اب مہارت پر مبنی تنخواہ کے نظام کی طرف نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ سروے میں شامل تقریباً نصف کمپنیاں روایتی عہدہ پر مبنی تنخواہ کے ڈھانچے سے ہٹ کر مہارت پر مبنی نظام اپنا رہی ہیں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، جینیریٹو اے آئی، مشین لرننگ، سائبر سیکوریٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسے شعبوں کے ماہرین کو ۳۰؍ سے۴۰؍ فیصد تک زیادہ تنخواہ مل سکتی ہے، کیونکہ یہ مہارتیں اب کاروباری ترقی کے لیے نہایت اہم بن چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK