Updated: February 23, 2026, 3:00 PM IST
| Hubbali
ہبلی کے تاریخی کے ایس سی اے گراؤنڈ پر شروع ہونے والے رنجی ٹرافی ۲۶۔۲۰۲۵ءفائنل میں ایک طرف ۸؍مرتبہ کی چیمپئن کرناٹک کی ٹیم ہے، تو دوسری طرف پہلی بار فائنل میں پہنچ کر تاریخ رقم کرنے والی `جموں و کشمیرکی ٹیم ہے۔ یہ مقابلہ محض ایک ٹرافی کا نہیں بلکہ تجربے اور نئے جوش کے درمیان ایک عظیم جنگ کا پیش خیمہ ہے۔
جموں اور کشمیر کی ٹیم۔ تصویر:پی ٹی آئی
ہبلی کے تاریخی کے ایس سی اے گراؤنڈ پر شروع ہونے والے رنجی ٹرافی ۲۶۔۲۰۲۵ءفائنل میں ایک طرف ۸؍مرتبہ کی چیمپئن کرناٹک کی ٹیم ہے، تو دوسری طرف پہلی بار فائنل میں پہنچ کر تاریخ رقم کرنے والی `جموں و کشمیرکی ٹیم ہے۔ یہ مقابلہ محض ایک ٹرافی کا نہیں بلکہ تجربے اور نئے جوش کے درمیان ایک عظیم جنگ کا پیش خیمہ ہے۔
کرناٹک کی ٹیم اپنی روایتی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں کے ایل راہل، مینک اگروال اور کرون نائر جیسے بین الاقوامی تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں جو کسی بھی بولنگ اٹیک کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سیزن میں نوجوان بلے باز سمرن روی چندرن ایک نئی سنسنی بن کر ابھرے ہیں، جنہوں نے رنز کے انبار لگا کر سب کو متاثر کیا ہے۔ بولنگ میں پرسدھ کرشنا اور ودوت کاویرپا کی پیس جوڑی اور شریس گوپال کی اسپن جادوگری کرناٹک کے اہم ہتھیار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ہنداور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر بات چیت کی ری شیڈول
جموں و کشمیر کے لیے یہ فائنل ایک خواب کی تعبیر جیسا ہے۔ ان کی مہم کسی ایک اسٹار کھلاڑی کے بجائے اجتماعی جدوجہد پر مبنی رہی ہے۔ اس کہانی کے سب سے اہم کردار آل راؤنڈر عاقب نبی ہیں، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں ۵۰؍ سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مشکل وقت میں بیٹنگ سے بھی ٹیم کو سہارا دیا۔
ٹیم کو پارس ڈوگرا جیسے تجربہ کار کھلاڑی کی ذہنی مضبوطی میسر ہے، جبکہ شبھم کھجوریا، کامران اقبال اور عبدالصمد مڈل آرڈر میں ٹیم کو استحکام فراہم کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کی ٹیم ثابت کرنا چاہتی ہے کہ کرکٹ میں نام سے زیادہ کارکردگی معنی رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اوساسونا کی ریئل میڈرڈ کے خلاف حیران کن فتح، خطاب کی دوڑ دلچسپ
ہبلی کی پچ روایتی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے سازگار دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی دنوں میں فاسٹ بولرز کو باؤنس اور موومنٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ تیسرے اور چوتھے دن دراڑیں پڑنے سے اسپنرز کا کردار کلیدی ہو جائے گا۔ موسم صاف رہنے کی توقع ہے اور درجہ حرارت ۳۱؍ سے۳۳؍ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، جو کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی برداشت کا کڑا امتحان لے گا۔