تنخواہ تقسیم کرنے والے افسرانہر ماہ ا یسے لوگوں کے نام سے رقم نکالاکرتے تھے جو پولیس ڈپارٹمنٹ کے ملازم تھے ہی نہیں، ۵؍ معطل
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 7:48 AM IST | Mumbai
تنخواہ تقسیم کرنے والے افسرانہر ماہ ا یسے لوگوں کے نام سے رقم نکالاکرتے تھے جو پولیس ڈپارٹمنٹ کے ملازم تھے ہی نہیں، ۵؍ معطل
دوسروں کے گھوٹالوں اور جرائم کا پردہ فاش کرنے والے پولیس محکمے کے اندر ہی تنخواہوں کا ایک گھوٹالا سامنے آیا ہے۔ اطلاع کے مطابق محکمہ پولیس کے ملازمین تنخواہ تقسیم کرنے کے ذمہ دار محکمے میں کام کرنے والے افسران نے کچھ ایسے لوگوں کے نام سے تنخواہیں جاری کیں جو محکمۂ پولیس کے ملازم تھے ہی نہیں۔ ان جعلی ملازمین کا نہ صرف تنخواہ حاصل کرنے والوں کی فہرست میں نام شامل تھا بلکہ ان کے بینک اکائونٹ بھی موجود تھے جن میں ہر ماہ ان کی تنخواہ جمع کی کی جاتی تھی۔ یہ ٹھیک ویسا ہی گھوٹالا ہے جیسا گزشتہ سال ٹیچرس بھرتی گھوٹالا کیا گیا تھا۔ معاملہ سامنے آنے پر پولیس نے ۵؍ افسران کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق محکمۂ پولیس کے ملازمین کی تنخواہیں پہلے ’سیوارتھ ‘ نامی ویب پورٹل کے ذریعے نکالی جاتی تھی۔ اس بار اس پورٹل میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جب سارے ملازمین کے نام نئے پورٹل پر منتقل کئے جا رہے تھے اسی دوران حکام کو اس گھوٹالے کا علم ہوا۔ انہیں کچھ تنخواہ داروں میں کچھ ایسے نام ملے جو پولیس محکمے کا حصہ نہیں تھا۔ محکمہ پولیس کی تنخواہ نکالنے اور انہیں ملازمین کے اکائونٹ میں جمع کروانے کا کام نارتھ ریجن ڈیویژنل آفس میں ہوتا ہے۔ جانچ میں معلوم ہوا کہ اس آفس میں کام کرنے والے کچھ افسران نے اپنی طرف سے محکمہ ٔ پولیس کے ملازمین کی فہرست میں کچھ نام شامل کر دیئے تھے۔ ان جعلی ناموں کے بینک اکائونٹ بھی کھولے گئے تھے۔ ان اکائونٹ میں باقاعدہ ہر ماہ تنخواہ جمع کی جاتی تھی جو مبینہ طور پر یہ افسران نکال لیا کرتے تھے۔ اس دوران تقریباً ساڑھے ۶؍ کروڑ روپے ان جعلساز افسران نے حکومت سے اینٹھ لئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔
جب اعلیٰ حکام کو شبہ ہوا تو انہوں نے ۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۰ء کے اکائونٹ کا آڈٹ کروایا۔ تب معلوم ہوا کہ ان دوسال سے پہلے اور بعد کی تنخواہوں کی رقم کافی فرق ہے۔ نیز جن ۱۰؍ یا ۱۲؍ ملازمین کے نام سے اس عرصے میں کروڑوں روپے بینک میں جمع کئے جا چکے ہیں وہ سرے سے پولیس محکمے میں کام ہی نہیں کرتے۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق رام داس بھوگلے، سدھا کر کدم ، سرجو یادو، بھگوت بھوسلے، گناجی کھائوکر ، مہا دیو ہلدنکر، راجند ر سونار، اتم تھورات، سوریہ کانت پاٹل اور پانڈو رنگ کدم ، ان ناموں سے بینک اکائونٹ کھولے گئے تھے اور تنخواہیں حاصل کی جا رہی تھیں۔ یہ لوگ اصل میں کون ہیں اور گھوٹالا کرنے والے افسران کے ساتھ ان کا کیا تعلق ہے یہ کسی کو نہیں معلوم، البتہ پولیس اب اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
اس معاملے میں نارتھ ریجن ڈیویژن کے پولیس انسپکٹر کی شکایت پر سمتا نگر پولیس اسٹیشن میں ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ ان میں رام کشن گوسوامی، ناگیش تلوڑے کر، وجیا چوہان، ہیڈ کلرک اجے راٹھور اور سینئر کلرک امول میشرام شامل ہیں۔ ان لوگوں پر جعلسازی، سازش کرنے اور ثبوت مٹانےکے الزام میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہیں محکمے سے معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ٹیچرس بھرتی گھوٹالا جسے شالارتھ گھوٹالا کہتے ہیں، وہ بھی اسی طرح کے تھا۔ بعض افسران نے جعلی آئی ڈی بناکر ٹیچرس کی بھرتی کروائی تھی حالانکہ وہ ٹیچرس صرف کاغذ پر تھے حقیقت میں اسکول میں کوئی ٹیچر پڑھا ہی نہیں رہا تھا لیکن ان کی آئی ڈی کے ذریعے حکومت سے تنخواہ حاصل کی جا رہی تھی۔