آنجہانی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ ساتھ ان کی سابق منیجر دشا سالین کی موت کا معمہ بھی حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 1:48 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
آنجہانی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ ساتھ ان کی سابق منیجر دشا سالین کی موت کا معمہ بھی حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
آنجہانی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ ساتھ ان کی سابق منیجر دشا سالین کی موت کا معمہ بھی حل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر دِشا کی موت کے تعلق سے الگ الگ کہانیاں وائرل ہورہی ہیں تو دوسری طرف ہائی کورٹ کے حکم کے بعد دِشا کی موت کے سلسلہ میں سی بی آئی کے نئے سرے سے ایف آئی آر درج کرنے اور مذکورہ کیس میں مشتبہ افراد کی فہرست میں رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے، سابق ریاستی وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے علاوہ دیگر کئی اہم شخصیات کے نام منظر عام پر آنے کے بعداب شہر کے ایک وکیل نےادھو ٹھاکرے کو اس کیس کا کلیدی ملزم قرار دے کر سنسنی پھیلا دی ہے ۔یہ الزامات اس وقت لگائے گئے ہیں جب ادھوٹھاکرے اور ان کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے دونوں نے دِشا سالیان سے تعلق کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈیگو میں ۲؍ سال سے کم عمر بچوں کے سفر کی فیس ۳؍ ہزار
وکیل نیلیش اوجھا جو دِشا سالیان کی موت سے متعلق ان کے والد ستیش سالیان کی داخل کردہ عرضداشت پر پیروی کررہے ہیں ،نے ایک ایسا سنسنی خیز بیان جاری کیا ہے جو دِشا کی موت کے معاملہ میں ہونے والی تفتیش کے معاملے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو اس کیس کا کلیدی ملزم قرار دیا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کئی اور الزامات لگاتے ہوئےیہ بھی کہا کہ جس طرح سے مذکورہ تفتیش میں آدتیہ ٹھاکرے کا نام شامل کیا گیا ہے ، اسی طرح اس کیس میں ان کے والد ادھو ٹھاکرے کا بھی کلیدی رول ہے ۔ ام کا الزام ہے کہ’’ ادھو ٹھاکرے نے آدتیہ ٹھاکرے کے کالے کارناموں پر پردہ ڈالنے کے لئے فورس سے برطرف کئے گئے افسر سچن وازے کو دِشا کی موت سے دو دن قبل پولیس فورس میں بحال کرایا تھا ۔اس کا سہرا ادھوٹھاکرے کے سر جاتا ہے ۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ادھو ٹھاکرے کے دباؤ میں انہیں وازے کو فورس میں بحال کرنا پڑا تھا ۔ وکیل نے مذکورہ کیس سے متعلق سی سی ٹی وی کیمرہ ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کرنےاور ڈی وی آر سے کئی ناموں کو حذف کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے اپنے خاندان کا نام دِشا سالیان کی موت سے جوڑنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوال کیاہے کہ’’ اس کیس میں غیر متعلقہ سیاسی شخصیات کو کیوں گھسیٹا جا رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے اسے ’کردار کشی‘ قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے۔