اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں معاہدے پر دستخط کا امکان، عمل درآمد سے پہلے پارلیمانی منظوری ضروری ہوگی۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 3:04 PM IST | Copenhagen
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں معاہدے پر دستخط کا امکان، عمل درآمد سے پہلے پارلیمانی منظوری ضروری ہوگی۔
گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے خطے میں سیکوریٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک نئے معاہدے پر اگلے ہفتے دستخط متوقع ہیں۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق تینوں حکومتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کی توقع رکھتی ہیں۔ تاہم دستخط کے بعد بھی معاہدہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے ضروری پارلیمانی کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔ گرین لینڈ کی حکومت کے سربراہ جینس فریڈرک نیلسن نے معاہدے پر پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرین لینڈ، ڈنمارک کی مملکت، امریکہ اور مغربی اتحاد کی سلامتی کو تحفظ دینے اور مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں اس کے مقام کو تسلیم کرتا ہے اور یہ تمام متعلقہ فریقوں کے مفاد میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس میں پارلیمانی انتخابات کا آغاز ، یوکرین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی تینوں فریقوں کے درمیان ’’اچھے معاہدے‘‘ کے امکانات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ سمجھوتا خطے میں مشترکہ سلامتی کو مضبوط کرے گا اور نیٹو اور یورپ کے لیے بھی اہم ہوگا۔ فریڈرکسن نے خاص طور پر کہا کہ معاہدہ مملکتِ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود اختیاری کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کی مملکت کا خود مختار علاقہ ہے، جبکہ اس کی سلامتی اور مستقبل کی حیثیت پر حالیہ برسوں میں بین الاقوامی توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔ نئے معاہدے کی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آرکٹک خطہ عالمی سلامتی اور تزویراتی مسابقت کے اعتبار سے زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ گرین لینڈ کی جغرافیائی حیثیت اسے شمالی امریکہ اور یورپ کے درمیان اہم مقام فراہم کرتی ہے، جبکہ آرکٹک میں بدلتے ہوئے موسمی حالات نے سمندری راستوں، وسائل اور دفاعی سرگرمیوں سے متعلق دلچسپی بھی بڑھائی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار نبھانے سے انکار
ڈنمارک کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق مجوزہ سمجھوتے پر دستخط اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے موقع پر نیویارک میں متوقع ہیں۔ تاہم موجودہ اعلان کے مطابق یہ ابھی دستخط سے قبل کا مرحلہ ہے؛ معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لیے متعلقہ پارلیمانی طریقۂ کار مکمل ہونا ضروری ہوگا۔ یہ پیش رفت گرین لینڈ سے متعلق امریکی دلچسپی کے پس منظر میں بھی سامنے آئی ہے۔ موجودہ معاہدے کے بارے میں دستیاب سرکاری معلومات میں زور علاقائی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے حقِ خود اختیاری پر دیا گیا ہے۔