• Tue, 17 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سماجوادی کارپوریٹروں کی ممبئی کے منتخبہ علاقوں کو ہفتہ کے ساتوں دن ۲۴؍ گھنٹےکھلا رکھنے کی تجویز

Updated: February 17, 2026, 10:08 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی منتخبہ ۲؍ خاتون کارپوریٹروں: امرین شہزاد ابراہانی اور ارم ساجد احمد صدیقی نے ایک تجویز تیار کی ہے جس میں انہوں نے مشورہ دیا ہےکہ ہندوستان کے معاشی دارالحکومت ممبئی کے منتخبہ علاقوں کو قانونی طور پر ہفتہ کے ساتوں دن ۲۴؍ گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے۔

Iram Siddiqui (right), Amreen Abrahani and Shahzad Abrahani at the press conference.Photo:INN
ارم صدیقی (دائیں)، امرین ابراہانی اور شہزاد ابراہانی پریس کانفرنس میں۔ تصویر:آئی این این
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی منتخبہ ۲؍ خاتون کارپوریٹروں:  امرین شہزاد ابراہانی اور ارم ساجد احمد صدیقی نے ایک تجویز تیار کی ہے جس میں انہوں نے مشورہ دیا ہےکہ ہندوستان کے معاشی دارالحکومت ممبئی کے منتخبہ علاقوں کو قانونی طور پر ہفتہ کے ساتوں دن ۲۴؍ گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے۔ ان عوامی نمائندوں کادعویٰ ہے کہ اس تجویز پر عمل کرنے سے ملازمت کے زیادہ مواقع فراہم ہوں گے اور اس سے ممبئی ملک کا اپنی نوعیت کا پہلا شہر بن جائے گا جونہیں سوتا۔یہ تجویز ممبئی میئر اور میونسپل کمشنر کو پیش کی جائے گی۔
 
 
ان کارپوریٹرو ںنے پیر کی دوپہر ممبئی پترکار سنگھ میں پریس کانفرس منعقد کی تھی ۔ اس پریس کانفرنس میں ان کارپوریٹروںنے بتایاکہ ہم نے اپنی تجویز میں ایک منظم نائٹ ٹائم اکانومی کا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت فوڈ ڈسٹرکٹس، ثقافتی مراکز، میرین ٹورزم، آرٹ فیسٹیولز اور تفریحی کوریڈور قائم کئے جائیں گے تاکہ ایم ایس ایم ایز اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ مل سکے۔
 
 
انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے متعدد بڑے شہروں نے ۲۴؍گھنٹے پر مشتمل منظم معاشی فریم ورک اپنایا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھے، سیاحت کو فروغ ملا، شہری سلامتی بہتر ہوئی اور ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق مخصوص تجارتی زونز میں آپریشن کے اوقات میں توسیع سے ریٹیل، ہاسپیٹیلٹی، لاجسٹکس،  ہیلتھ کیئر اور دیگر سروس انڈسٹریز میں نمایاں اضافہ ہوگا۔کارپوریٹروں کے مطابق ممبئی طویل عرصے سے ’’سٹی دیٹ نیور سلیپ‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی اور ریگولیٹری سیف گارڈز کے ذریعے شہر کو باضابطہ طور پر ایک منظم  ۲۴x۷؍گلوبل سٹی ماڈل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو معاشی استحکام، شمولیتی ترقی اور معیارِ زندگی میں بہتری کا سبب بنے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK