Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے دور حکومت میں روس پر سے پابندیاں ہٹانے کا امکان نہیں

Updated: March 29, 2026, 10:55 AM IST | Mumbai

روسی قانون سازوں کا وفد امریکہ سے بیرنگ لوٹا ، وفد کے سربراہ نیکولوف نے طنزکیاکہ’’ اس دورے کو تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘

Donald Trump and Vladimir Putin had a good talk but no agreement was reached. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن نے ایک دوسرے سے خوب باتیں کیں مگر مفاہمت نہیں ہوئی۔ تصویر: آئی این این

یونائٹیڈ رشیا پارٹی کے رکن اور اسٹیٹ ڈوما کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے نائب چیئرمین ویچسلاو نیکونوف نے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت کے اختتام تک امریکہ کی جانب سے روس کے خلاف پابندیاں ہٹانے کا امکان نہیں ہے۔جمعرات اور جمعہ کے روز امریکہ کا دورہ کرنے والے روسی پارلیمانی وفد کے سربراہ نیکونوف سے جب پوچھا گیا کہ کیا ڈونالڈ ٹرمپ روس پر عائد معاشی پابندیاں ہٹائیں گے تو انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب’ نہیں ‘ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ٹھن گئی ہے؟

یاد رہے کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ نے روس کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کی تھیں جنہیں ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید سخت کر دیں۔روس نے بارہا کہا ہے کہ وہ مغرب کی طرف برسوں پہلے لگائی جانے والی پابندیوں کے دباؤ کو برداشت کرے گا، جن میں وہ مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ روس نے یہ بھی کہا ہے کہ مغرب میں روس پر عائد پابندیوں کی ناکامی کو تسلیم کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ مغربی حکام بھی بارہا اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ یہ پابندیاں بے اثر رہی ہیں۔ اس سے روس کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ترکی، یورپ اور خطے کا ردعمل، ایران جنگ پر عالمی صف بندیاں واضح

یاد رہے کہ پانچ روسی قانون سازوں نے جمعرات اور جمعہ کے روز واشنگٹن میں اپنے امریکی کانگریس کے ساتھیوں اور امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملاقات کی۔ نیکونوف نے کہا کہ روسی قانون سازوں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام اور یوکرین سمیت متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس دورے کو تاریخی قرار دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ان کے بیان سے ظاہرہے کہ وہ موقف امریکی حکام سے منوانے میں ناکام رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے والوں پر بھی ٹیریف عائد کرکے انہیں تیل کی خریداری روکنے پر مجبور کیا ہے۔ اس کی وجہ سے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تلخیاں اور بڑھ گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK