Updated: March 28, 2026, 9:05 PM IST
| Baghdad
ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے عالمی سیاست کو واضح طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ عراق پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ ایران نواز ملیشیاؤں کو کنٹرول کرے، جبکہ ترکی نے اس جنگ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اسی دوران یوکرین نے توانائی تعاون کی امید ظاہر کی اور فرانس نے اپنی فوجی موجودگی کو ’’دفاعی‘‘ قرار دیا، جس سے عالمی صف بندیاں مزید واضح ہو گئی ہیں۔
ایرانی یونیورسٹی پر اسرائیلی حملہ۔ تصویر: ایکس
(۱) عراق پر دباؤ، ایران نواز ملیشیاؤں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ
عالمی حکام نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو کنٹرول کرے۔ رپورٹس کے مطابق اگر ایسا نہ کیا گیا تو عراق کو علاقائی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ’’عراق کو اپنی سرزمین کو پراکسی جنگ کیلئے استعمال ہونے سے روکنا ہوگا۔‘‘ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کا دباؤ اب عراق تک پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: جنگ کے دوران سائرن کا غلط استعمال، یہودی مفت اشیاء لے کر فرار
(۲) زیلنسکی کی توقع، مشرق وسطیٰ کے ممالک ڈیزل فراہم کریں گے
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک ایران کے شاہد ڈرونز کے خلاف مدد کے بدلے ڈیزل فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم تعاون کے بدلے توانائی کی سپورٹ چاہتے ہیں۔‘‘ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات یورپ تک پھیل چکے ہیں۔
(۳) فرانس کا بیان، مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی ’’دفاعی‘‘ ہے
فرانس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فوجی موجودگی مکمل طور پر ’’دفاعی‘‘ نوعیت کی ہے۔ حکام نے کہا کہ ’’ہم اپنے شہریوں اور اتحادیوں کے تحفظ کیلئے موجود ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک پر جنگ میں شامل ہونے کا دباؤ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا عالمی نظام پر سوال، ’’دوسری جنگ عظیم کا آرڈر بحران میں‘‘
(۴) ترکی کا سخت مؤقف، ایران کے خلاف جنگ کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا
ترکی کے وزیر خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔‘‘یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ترکی اس تنازع میں واضح طور پر مخالف مؤقف رکھتا ہے۔