سنجے رائوت کا کہنا ہے کہ ’’ اپنے امیدواروں کی بلا مقابلہ جیت کو یقینی بنانے اور پرچہ نامزدگی واپس لینے کا ڈرامہ رچانے کیلئے ایک ہی دن میں ڈیڑھ سو کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ ‘‘
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 10:50 AM IST | Mumbai
سنجے رائوت کا کہنا ہے کہ ’’ اپنے امیدواروں کی بلا مقابلہ جیت کو یقینی بنانے اور پرچہ نامزدگی واپس لینے کا ڈرامہ رچانے کیلئے ایک ہی دن میں ڈیڑھ سو کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ ‘‘
شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے یہ سنسنی خیز الزام لگایا ہے کہ مہایوتی نے اپنے امیدواروں کو بلا مقابلہ جیت دلوانے کیلئے ایک دن میں ڈیڑھ سو کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ حالانکہ بی جے پی نے اس الزام کی تردیدکی ہے۔
سنجے رائوت کا کہنا ہے کہ ’’ اپنے امیدواروں کی بلا مقابلہ جیت کو یقینی بنانے اور پرچہ نامزدگی واپس لینے کا ڈرامہ رچانے کیلئے ایک ہی دن میں ڈیڑھ سو کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ ‘‘ رائوت نے دعویٰ کیا کہ’’ اپوزیشن کے گھوڑے خود ہی بازار میں پہنچے تھے اپنے آپ کو فروخت کرنے کیلئے۔ انہوں نے خود اپنے اپنے دام لگائے۔ ‘‘ رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ یہ لیکن دین اورنگ آباد، رائے گڑھ اور پونے میں ہوا جو کہ جمہویت کیلئے بے حد خطرناک ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ودھان پریشد الیکشن سے اپنا نام واپس لینے کا آخری دن تھا اور اس دن مہا وکاس اگھاڑی کے کل ۶؍ امیدواروں نے اپنے نام واپس لئے جس کی وجہ سے مہایوتی کے ۶؍ امیدوار بغیر الیکشن لڑے ہی کامیاب ہو گئے۔ سنجےرائوت اسی تناظر میں بات کر رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی بلا مقابلہ الیکشن کروانے کیلئے اتنی بے چین کیوں ہے؟ کیا وہ مقابلہ کرکے الیکشن نہیں جیت سکتی؟
بی جے پی نے الزام کی تردید کی
سنجے رائوت کے ان الزامات کی بی جے پی نے تردید کی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور وزیر محصول چندر شیکھر باونکولے نے کہا ہے کہ بی جے پی نے کبھی بھی خرید وفروخت اور دبائو ڈالنے والے سیاست نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ غنڈہ گردی اور دبائو کی سیاست کانگریس نے ۶۵؍ سال تک کی ہے۔ درمیان میں ادھو ٹھاکرے اور دیگر لوگوں نے حکومت کا استعمال کرکے غنڈہ گردی کے ذریعے الیکشن لڑے لیکن اس بار ریاست میں ایک بھی امیدوار بتائیے جس نے دبائو کی وجہ سے اپنا نام واپس لیا ہو؟ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ کانگریس کو اپنے لوگوں کو سنبھالنا نہیں آ رہا ہے اس لئے وہ اس طرح کے الزامات لگا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ الزام سنجے رائوت نے لگایا ہے جو کہ کانگریس میں نہیں شیوسینا (ادھو) میں ہیں۔ باونکولے نے اس موقع پر ودھان پریشد الیکشن نے نام واپس لینے والے امیدواروں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پیٹرول اور ڈیزل کے داموں کی بڑھتی قیمتوں کا دھیان رکھتے ہوئے حکومت کو اخراجات سے بچایا۔ وزیر محصول کا کہنا تھا کہ الیکشن کروانے میں کروڑروں روپے خرچ ہوتے ہیں جو کہ ان امیدواروں کے نام واپس لینے کے سبب بچ گئے ہیں ۔ ایسا کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ناگپور میں بی جے پی کے پاس ۵۸۰؍ ووٹ ہیں جبکہ مہا وکاس اگھاڑی کے پاس ۲۶۰؍ ایسی صورت میں رزلٹ سبھی کو پہلے سے معلوم ہے۔ اب ایسی صورت میں الیکشن کروانا صرف پیسوں کا ضیا ع ہے۔
بی جے پی کے ترجمان نوناتھ بان جو آئے دن شیوسینا(ادھو) پرتنقیدیں کرتے رہتے ہیں، انہوں نے سنجے رائوت کے الزامات کو غلط بتایا۔ ان کہنا ہے کہ اگر ڈیڑ سو کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں تو سنجے رائوت اسے ثابت کریں ورنہ جھوٹے الزام نہ لگائیں۔ بان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے کام سے سبھی پارٹی کے اراکین متاثر ہیں اس لئے انہوں نے سمجھداری دکھاتے ہوئے اپنے پرچے واپس لئے ہیں ۔ بی جے پی کے پاس تعداد تھی وہ یوں بھی الیکشن جیتنے والی تھی۔