گولو اور سنگیتا نے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کی اسکیم کے تحت معافی نامہ حاصل کیا تھا، پولیس ہیڈکوارٹرس میں ان کی شادی کروائی گئی۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 10:55 AM IST | Gondia
گولو اور سنگیتا نے گزشتہ سال نومبر میں حکومت کی اسکیم کے تحت معافی نامہ حاصل کیا تھا، پولیس ہیڈکوارٹرس میں ان کی شادی کروائی گئی۔
حال ہی میں گوندیا ضلع کے ۱۵؍ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈالے تھے، جن میں سے پانڈو پُوسُو وڈّے عرف گولو اور سیونتی رائے سنگھ پندھرے عرف سنگیتا نے شادی کے بندھن میں بندھ کر اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس شادی کی تقریب پولیس ہیڈ کوارٹر میں مختلف افسران اور اہلکاروں کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
اطلاع کے مطابق ۳۷؍سالہ پانڈو پُوسُو وڈّے کو ماؤنواز تنظیم میں گولو کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم کے دریکسہ علاقے میں ڈیویژنل کمیٹی کے رکن کے طور پر کام کر رہا تھا۔ جبکہ ۳۶؍سالہ سیونتی رائے سنگھ پندھرے، جو ماؤنواز تنظیم میں سنگیتا کے نام سے جانی جاتی تھی، دریکسہ ایریا کمیٹی میں ایریا کمیٹی ممبر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ تشدد اور کشیدگی کے غیر معمولی ماحول میں برسوں تک رہنے کے بعد، دونوں نے ۲۸؍نومبر ۲۰۲۵ ءکو گوندیا پولیس کے سامنے خودسپردگی کرنے اور مرکزی دھارے میں واپس آنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا تھا۔
اس فیصلے کے پیچھے معاشرے میں عزت کے ساتھ جینے، اپنے خاندان کی پرورش اور پرامن مستقبل بنانے کی ان کی خواہش کارفرما تھی۔ بتادیں کہ حکومت کی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری اسکیم کے تحت خود سپردگی کرنےوالے ماؤنوازوں کے مختلف ضروری دستاویزات کی تیاری مثلاً آدھار کارڈ، انتخابی کارڈ، بینک اکاؤنٹ، اور روزگار پر مبنی تربیت فراہم کرنا اور ان کی بحالی سے متعلق دیگر اقدامات جاری ہیں۔ خودسپردگی کے بعد سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورکھ بھامرے کی کوشش و معاونت اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انچارج ابھے ڈونگرے کی رہنمائی میں ۳؍جون کو اس سابق ماؤنواز جوڑے کی زندگی کے نئے سفر کے آغاز کیلئے شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ حکومت کی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کی کامیاب زندہ مثال کے طور پر، دو ہتھیار ڈالنے والے نکسل ارکان نے شادی کی اور امن اور وقار کی نئی زندگی کا آغاز کیا۔
شادی کی یہ تقریب جنگل میں اب بھی سرگرم ماؤنوازوں کو ایک مثبت پیغام بھی دیتی ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں اور تشدد کا راستہ چھوڑ دیں تو انہیں بھی عزت، سلامتی اور خوشی کی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ اس واقعے نے اس یقین کو مزید تقویت بخشی ہے کہ ہر فرد کو نئے سرے سے کھڑے ہونے اور معاشرے میں اپنا مقام بنانے کا دوسرا موقع مل سکتا ہے۔ شادی کی تمام تقاریب پرامن ماحول اور کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر پریرنا ہال، پولیس ہیڈ کوارٹر، کارنجہ، ضلع گوندیا میں کامیابی کے ساتھ انجام پائیں۔ یاد رہے کہ ۲۰۲۴ء کے بعد سے بڑی تعداد میں مائو وادیوں نے خود سپردگی کی ہے اور حکومت کے اعلان کے مطابق معافی نامہ حاصل کیا ہے۔