حکومت نے ۵۶؍ لاکھ کسانوں کیلئے قرض معافی کا اعلان کیا ہے لیکن شرائط کے سبب صرف ۱۷؍ لاکھ کسانوں کا قرض معاف ہو سکے گا۔
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 10:53 AM IST | Mumbai
حکومت نے ۵۶؍ لاکھ کسانوں کیلئے قرض معافی کا اعلان کیا ہے لیکن شرائط کے سبب صرف ۱۷؍ لاکھ کسانوں کا قرض معاف ہو سکے گا۔
حال ہی میں مہایوتی حکومت نے ریاست کے کسانوں کیلئے مجموعی طور پر ۳۶؍ہزار کروڑ روپے کی قرض معافی اسکیم کو منظوری دی ہے اور حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے کل ۵۶؍ لاکھ کسان اس سے مستفید ہوں گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قرض معافی کیلئے جو شرائط وضوابط عائد کئے گئے ہیں ان کی وجہ سے حقیقت میں صرف ۱۷؍ لاکھ کسانوں کو پورے قرض کی معافی ملے گی۔ اس طرح لاکھوں کسان جن کی تعداد اکثریت میں ہوگی قرض معافی اسکیم سے محروم رہ جائیں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کابینہ میٹنگ کے دوران کسانوں کی قرض معافی کا حکم جاری کیا تھا۔ کابینہ میں اسے منظوری مل چکی ہے اب ودھان پریشد الیکشن کے بعد اسے نافذ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ ضابطہ ٔ اخلاق کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے قرض معافی کا باضابطہ اعلان کرنے سے منع کیا ہے۔ لیکن حکومت نے قرض معافی کیلئے جو شرائط رکھی ہیں وہ کسانوں کی راحت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قرض معافی کی اول شرط یہ ہے کہ قرض ۲؍ لاکھ روپے سے کم ہو۔ نیز حکومت نے شرط عائد کی ہے کہ جن کسانوں کے بقایا قرضے مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے ۲۰۱۹ء میں معاف کئے تھے انہیں اس اسکیم کا پورا فائدہ نہیں ملے گا۔ اور ایسے کسانوں کی تعداد تقریباً ۱۳؍ لاکھ ہے۔ اگر ان کسانوں کا قرض دو لاکھ سے کم ہے تو بھی انہیں صرف ۵۰؍ ہزار روپے کا فائدہ ملے گا اور انہیں قرض کی باقی رقم ادا کرنی ہوگی۔ دوسری طرف، دو لاکھ سے زیادہ کے بقایا قرضے والے کسانوں کو دو لاکھ کے قرض کی معافی کا فائدہ نہیں ملے گا جب تک کہ وہ دو لاکھ سے زیادہ کی رقم بینک میں جمع نہیں کرواتے ہیں۔ اسلئے اپوزیشن نے ان شرائط کی شدید مخالفت کی ہے اور قرضوں کی مکمل معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کی طرف سے جاری کردہ جی آر میں کہا گیا ہے کہ جن کسانوں نے پہلے قرض معافی نہیں حاصل کی ہے ان کا ۲؍ لاکھ روپے تک کا پورا قرض معاف کر دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے ۲۰۱۹ء میں قرض معافی حاصل کی ہے ان کا صرف ۵۰؍ہزار روپے کا قرضہ معاف ہوگا، باقی رقم ادا کرنی ہوگی۔ ۲؍ لاکھ روپے سے زیادہ کے قرضے والوں کو قرض کی معافی نہیں ملے گی جب تک کہ ۲؍ لاکھ روپے سے زیادہ کی پوری رقم ادا نہیں کی جاتی ہے۔ باقاعدہ قرض ادا کرنے والے کسانوں کو ۵۰؍ ہزارروپے کی سبسڈی ملے گی۔ یعنی کسان ۲؍؍ لاکھ کے اوپر کی رقم ادا نہیں کر پائے گا جو کہ ہزاروں میں بھی ہو سکتی ہے اور لاکھوں میں بھی اور وہ قرض معافی کیلئے اہل ہوہی نہیں سکے گا۔ ایسے سخت شرائط و ضوابط عائد کرنے کی وجہ سے قرض لینے والے کسانوں میں ناراضگی کا ماحول ہے۔ ان شرائط پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو گھیرنے کا بھی امکان ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے پہلے ہی الزام لگایا ہے کہ حکومت کی جانب سے قرض معافی کا اعلان محض کسانوں کا مذاق ہے۔ وہ ان لوگوں کا قرض معاف نہیں کریں گے جنہیں ۲۰۱۹ء میں قرض معافی مل چکی ہے۔ یعنی وہ ایک بڑے طبقے کو محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ سپکال نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تمام کسانوں کا قرض مکمل طور پر معاف کرے۔ سب کی توجہ اس طرف ہے کہ حکومت اپنی شرائط پر قائم رہے گی یا ان میں تبدیلی لائے گی۔ ۱۸؍ جون کے بعد قرض معافی کا باضابطہ اعلان ہوگا۔