رکن پارلیمان امول کولہے نے بھی دھیریندرشاستری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے سینئرلیڈر وجے وڈیٹیوار نے ’دھوکہ باز بابا‘ کہا۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 10:42 AM IST | Pune
رکن پارلیمان امول کولہے نے بھی دھیریندرشاستری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کے سینئرلیڈر وجے وڈیٹیوار نے ’دھوکہ باز بابا‘ کہا۔
دھیریندر شاستری جو بابا باگیشور کے نام سے مشہور ہیں، کے چھترپتی شیواجی مہاراج سے متعلق متنازع بیان پر اپوزیشن کے لیڈران کی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ شیوسینا (ادھوٹھاکرے) کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ اب باہر کے لوگوں کو لاکر شیواجی مہاراج کی تاریخ کی توہین کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ متنازع بیانات جمعہ کو ناگپور میں وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس، مرکزی وزیر نتن گڈکری اورآر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی موجودگی میں ایک تقریب کے دوران دیئے گئے۔ اس پر اپوزیشن لیڈروں نے مہایوتی حکومت پر خاموش رہنے کا الزام لگاتے ہوئےسخت تنقید کی۔
شیو سینا (اُدھو ٹھاکرے) کے ترجمان سنجے راؤت نے کہا کہ پہلے سندھو درگ ضلع کے مالون میں بدعنوانی کی وجہ سے (شیواجی )مورتی کو گرایا گیا اور اب باہر کے لوگوں کو لا کر ان کی تاریخ کی توہین کی جا رہی ہے۔ یہ کہنا کہ انہوں نے اپنی ریاست کسی اور کو دے دی، تاریخی گناہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مہایوتی حکومت ان کی توہین کیلئے پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راگھو چڈھا اور دیگر کی رُکنیت کی منسوخی کیلئے اپیل داخل
امول کولہے کا سخت ردعمل
رکن پارلیمان امول کولہے نےبھی دھیریندر شاستری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جب شمالی ہند مغل حملوں کے سامنے جھک رہا تھا، اس وقت مہاراشٹر سہیا دری کے پہاڑوں پر تلوار کے ذریعے تاریخ رقم کر رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ باہر سے آنے والوں کو مہاراشٹر کے عوام کو شیواجی مہاراج کی تاریخ سکھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، خاص طور پر جب معلومات مکمل یا درست نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں شیواجی مہاراج محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ عوام کی شناخت، فخر اور خودداری کی علامت ہیں اور یہ حیثیت ماضی، حال اور مستقبل میں برقرار رہے گی۔ اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے’جے شیو رائے‘ کا نعرہ بھی دیا۔
وجے وڈیٹیوار نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا
کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹیوار نے اتوار کودھیریندر شاستری پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’دھوکہ بازبابا‘ قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ کیا وہ قابل احترام شخصیات کی بے عزتی کرنے والوں کی حفاظت کیلئے اقتدار میں آئی ہے۔
واضح رہے کہ ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال اور این سی پی (شردپوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اس معاملے میں دھریندر شاستری اور وزیراعلیٰ سے معافی مانگنے اور شاستری کے ریاست میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔