ایک سال پہلے نہر کا پل بارش کےپانی سے ٹوٹ گیا تھا ، لکڑی کا عارضی پل بنا یاگیا تھا ، وہ بھی کمزورہوچکا ہے۔ جلد ازجلد تعمیر کا مطالبہ
EPAPER
Updated: September 08, 2020, 11:14 AM IST | Abdul Baqi | Sant Kabir Nagar
ایک سال پہلے نہر کا پل بارش کےپانی سے ٹوٹ گیا تھا ، لکڑی کا عارضی پل بنا یاگیا تھا ، وہ بھی کمزورہوچکا ہے۔ جلد ازجلد تعمیر کا مطالبہ
اتر پردیش کے ضلع سنت کبیر نگر کے تحصیل حلقہ مہنداول کے تحت گاؤں پنچایت دوبہا کی نہر پر ابھی تک پل تعمیر نہیں ہوا ۔ واضح رہےکہ یہ پل گزشتہ سال برسات کے موسم میں شدید بارش کے بعد پانی کے بہاؤ کی وجہ سے ٹوٹ گیاتھا۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے کوئی توجہ نہ ملنے پر مقامی پردھان نے عارضی طور پر بلی پٹرے سے پل بنوا دیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے بعد ابھی تک پل کی تعمیر نہیں کی گئی۔ ایک سال گزرنے کے بعد مذکورہ لکڑی کا پل کمزور ہوگیا ہے جس سے ہر وقت ٹوٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔ خیال رہے کہ تحصیل حلقہ مہنداول کے تحت گاؤں پنچایت دھوبہا کی نہر پر تعمیرپل گزشتہ سال برسات میں شدید بارش کے بعد پانی کے بہاؤ کی وجہ سے ٹوٹ گیاتھا جس کی وجہ سے آمدورفت نہایت مشکل ہو گئی تھی ۔ پل کے قریب میں سرکاری پرائمری اسکول بھی واقع ہے۔پل ٹوٹنے کی وجہ سےعام راہگیروں اوراسکولی بچوں کو۲؍ کلو میٹر کی دوری طے کرکے دوسرے دوردراز راستہ سےجانا پڑتاتھا۔مذکورہ گاؤں کے پردھان دھیرج کمار چودھری نے متعلقہ افسران کو آگاہ کیا تھا لیکن۲؍ ماہ گزرنے کے بعد ٹوٹی ہوئی پلیا تعمیرنہیں ہوئی تھی تو پردھان دھیرج کمار چودھری نے فوری راحت کیلئے اپنی سطح سے بلی پٹرے سے گاؤں والوں کی مددسے تعمیرکرادیاتھا لیکن ایک سال کے بعد بھی متعلقہ محکمہ کی جانب سے یقین دہانیوںکے سواکچھ نہیں ملا ہے۔ دوبہاگاؤں کے سراج احمد،محمدیونس،حافظ اسجد،عرفان احمد، مولانا مقصود، سعیدالرحمٰن، سہیل احمد، محمد مبین، آفتاب عالم، خوشیال، دلیپ، سراج اورحافظ سعیدوغیرہ کا کہنا ہے کہ سبھی لیڈر گاؤں اور ترقی کے نام پر محض ووٹ لیتے ہیں اور کامیابی کے بعد اپنا چہرہ چھپائے رہتے ہیں جس سے مسائل کے حل میں کافی دن لگ جاتےہیں۔ان کا کہناہے کہ فوری راحت کیلئے تعمیرہ شدہ عارضی پل لکڑی کا ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ خطرہ رہتا ہے لیکن عوامی نمائندے اور انتظامیہ مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ گاؤں پردھان دھیرج کمارچودھری کا کہناہے کہ ہمیں متعلقہ محکمہ کی جانب سے صرف یقین دہانی ملی ہے۔مقامی رکن اسمبلی راکیش سنگھ بگھیل نے بھی ۵؍ ماہ پہلے پلیا کی تعمیر کا وعدہ کیاتھا لیکن ابھی تک تعمیرنہیں ہوسکی جبکہ برسات ختم ہونے کے قریب ہے۔ گاؤں والوں کیلئے اس پر چلنامشکل ہوگیا ہے۔ لوگ اس ڈر کے ساتھ پل پارکررہے ہیں کہ کہیں پل کی بلیاں دھنس نہ جائیں۔انہوں نے کہاکہ دوبہااور اس سے متصل مواضعات کیلئے یہ ایک اہم پل ہے۔ پل ٹوٹنے سے مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے جلدازجلد پل کی تعمیرکا مطالبہ کیا۔