Updated: February 15, 2026, 3:21 PM IST
| New Delhi
کیرالا انفراسٹرکچر اینڈ ٹیکنالوجی فار ایجوکیشن(کے آئی ٹی ای) جو حکومت کیرالا کے محکمہ ٔتعلیم کا ٹیکنالوجی ونگ ہے، نے باضابطہ طور پر’ سروم اے آئی میم‘ کا آغاز کیا ہے۔ یہ بالغوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آگاہی کا ہندوستان کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این
کیرالا انفراسٹرکچر اینڈ ٹیکنالوجی فار ایجوکیشن(کے آئی ٹی ای) جو حکومت کیرالا کے محکمہ ٔتعلیم کا ٹیکنالوجی ونگ ہے، نے باضابطہ طور پر’ سروم اے آئی میم‘ کا آغاز کیا ہے۔ یہ بالغوں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آگاہی کا ہندوستان کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔
اس بڑے اقدام کے تحت، لٹل کائٹس آئی ٹی کلبوں کے طلبہ ریاست کے سرکاری اسکولوں کے ذریعے ۶؍لاکھ والدین کو اے آئی کی تربیت فراہم کریں گے۔ ایک ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ پروگرام، جو۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء تک جاری رہے گا، ۲۲۰۰؍ لٹل کائٹس یونٹس کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جہاں ہر یونٹ اوسطاً ۳۰۰؍ والدین کو تربیت دے گا۔ دو گھنٹے کا تربیتی ماڈیول اے آئی سے وابستہ مواقع اور خطرات دونوں کو مساوی اہمیت دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا آغازمشین لرننگ کے سادہ تعارف سے ہوتا ہے، جو کہ وہ بنیادی ٹیکنالوجی ہے جو مشینوں کو انسانوں کی طرح ڈیٹا پر کارروائی کرنے اور فیصلے کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
اے آئی کی تخلیقی طاقت کو ظاہر کرنے کے لیے، والدین کو ایسی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں جہاں راجہ روی ورما کی کلاسک پینٹنگز کو اینیمیشن کے ذریعے زندہ کیا گیا ہے۔ سیشنز میں اسمارٹ فونز کے ذریعے روزمرہ کی زندگی میں اے آئی کے عملی استعمال پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ والدین کو اے آئی ٹولز کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ پرندوں اور پودوں کی شناخت کر سکیں یا دوسری زبانوں، جیسے تمل، کے سائن بورڈز کا ملیالم میں فوری ترجمہ کر سکیں۔
تربیت میں اے آئی اسسٹنٹ کے ذریعے نظمیں لکھنے، سفری منصوبے بنانے اور گھر میں دستیاب اجزاء سے کھانے کی تراکیب تیار کرنے کا عملی تجربہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ ماڈیول دکھاتا ہے کہ کس طرح پرانی خاندانی تصاویر کو محفوظ کرنے اور بہتر بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اداکاری کے شعبے میں آنے کی ترغیب مجھے میرے نانا نے دی تھی‘‘
ان عملی فوائد کے ساتھ ساتھ، یہ پروجیکٹ ڈجیٹل دنیا کے ممکنہ خطرات کے بارے میں اہم انتباہ بھی جاری کرتا ہے۔ نصاب میں اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز، جعلی تصاویر اور کلون شدہ آوازوں کی شناخت کے لیے مخصوص ٹیکنالوجیز شامل ہیں، تاکہ والدین ایسے دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ اس کا مقصد سوشل میڈیا پر جذباتی غلط معلومات اور فیک نیوز کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا اور انٹرنیٹ کے آداب کی اہمیت پر زور دینا بھی ہے۔ والدین کو سمگرا پلس لرننگ روم سے بھی واقف کرایا گیا ہے، جو کائٹ (کے آئی ٹی ای) کا تیار کردہ ایک اے آئی پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارم ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی پڑھائی میں مدد کر سکیں۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب بھیج رہا ہے
یہ اقدام ۲۴۔۲۰۲۳ءمیں ۴؍لاکھ والدین کو فراہم کی گئی سائبر سیکوریٹی کی کامیاب تربیت کا تسلسل ہے۔ کائٹ کے سی ای او کے انور سعادت نے کہا کہ اس تربیت میں سیکوریٹی کے تازہ ترین معیارات شامل ہوں گے، بشمول آئی ٹی انٹرمیڈیری ترمیمی قواعد ۲۰۲۶ء، جو ۲۰؍ فروری ۲۰۲۶ء سے نافذ ہونے والے ہیں۔ سروم اے آئی میم کا حتمی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اے آئی کے دور میں ہر شہری حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کرنے کی مہارت رکھتا ہو، جبکہ طلباء اپنے خاندانوں کو تعلیم دینے میں پیش پیش ہوں۔