Updated: February 15, 2026, 4:08 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش میں ۱۳؍ ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کی واضح کامیابی کے بعد ۱۷؍ فروری کو طارق رحمان وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔ اس موقع پر بھارت سمیت ۱۳؍ ممالک کے سربراہان کو دعوت دینا نئی حکومت کی جانب سے علاقائی سفارت کاری اور جنوبی ایشیائی تعاون کو ترجیح دینے کا اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور طارق رحمان۔ تصویر: آئی این این
بنگلہ دیش نے منگل ۱۷؍ فروری کو بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کی قیادت میں نئی کابینہ کی حلف برداری کیلئے ہندوستان سمیت ۱۳؍ ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے بھیجے ہیں۔ مدعو ممالک کی فہرست میں بھارت، چین، سعودی عرب، پاکستان، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، ملائیشیا، برونائی، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان شامل ہیں۔ یہ تقریب اس ماہ کے شروع میں ہونے والے ۱۳؍ ویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ہے، جس سے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی قیادت میں عبوری انتظامیہ کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ نو منتخب اراکین پارلیمنٹ ۱۷؍ فروری کی صبح حلف اٹھانے والے ہیں، جس کا انتظام چیف الیکشن کمشنر کریں گے۔ وزیر اعظم کے طور پر رحمان کی قیادت میں کابینہ شام کی تقریب کے دوران حلف اٹھائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ کو جغرافیائی سیاسی طاقت بننا سیکھنا چاہئے، یہی درست وقت ہے: صدر میکرون
دعوت نامے، جو یونس نے عبوری حکام کی جانب سے جاری کئے لیکن آنے والی انتظامیہ کی ترجیحات سے ہم آہنگ تھے، علاقائی سفارت کاری پر زور دینے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کی خارجہ پالیسی کے مشیر ہمایوں کبیر نے وی آئی او این کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تک رسائی کی تصدیق کی۔ کبیر نے اس اقدام کو دانستہ خیر خواہی کا اشارہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ خطہ ہمارے لئے اہم ہے۔ اس خطے کو ایک با اثر خطہ بنانا طارق رحمان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹائم فریم مختصر ہے، لیکن اشارہ موجود ہے۔‘‘ واضح ہو کہ ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات کشیدہ اس وقت ہوئے جب ۲۰۲۴ء میں طلباء کی زیرقیادت بڑے پیمانے پر مظاہروں کے دوران شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور انہیں جلا وطنی کے بعد ہندوستان پناہ اختیار کرنی پڑی، جس کے بعد یونس کی عبوری حکومت قائم ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی شہری نکھل گپتا نے گروپتونت سنگھ پنو کے قتل کی سازش کا اعتراف کیا
چند ماہ قبل لندن میں ۱۷؍ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد واپس لوٹنے والے رحمان نے بی این پی کو فیصلہ کن دو تہائی اکثریت تک پہنچایا۔ حالیہ بیانات میں، انہوں نے سیاسی انتشار اور اقلیتی حقوق کے خدشات کے بعد قومی اتحاد، امن و امان میں بہتری اور معاشی استحکام پر زور دیا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد وزیر اعظم مودی کی رحمان کو ابتدائی مبارکبادی فون کال نے ’’جمہوری اور ترقی پسند‘‘بنگلہ دیش کی حمایت میں نئی دہلی کی دلچسپی کو اجاگر کیا۔ جبکہ حلف برداری کی تقریب میں حاضری کی تصدیق باقی ہے، واضح ہو کہ یہ دعوت نامے ڈھاکہ کے خارجہ تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینے اور انتخابات کے بعد کی ایک نازک منتقلی کے دوران جنوبی ایشیائی تعاون کو ترجیح دینے کے عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔