Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کے ۵؍ بڑے تجارتی گھرانوں کا ملک کی کارپوریٹ آمدنی کے ۶۰؍فیصدپر قبضہ

Updated: August 17, 2026, 1:41 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

جندل اور ٹاٹا گروپ کا حصہ متواتر اضافہ کے بعد۱۰؍ فیصد تک پہنچا، برلا گروپ کا حصہ تیزی سے کم ہورہا ہے مگر اب بھی ٹاپ ۵؍ میں برقرار، لبرلائزیشن بھی ان خاندانوں کا بہت کچھ بگاڑ نہیں سکا۔

The research report also points out the widespread perception that Adani and Ambani leverage their connections with politicians to their advantage. Picture: INN
تحقیقی رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اڈانی اور امبانی کے تعلق سے عام تاثر ہے کہ یہ سیاستدانوں سے روابط کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ ۲؍دہائیوں  سے ہندوستان کی کارپوریٹ دنیا کی آمدنی کے ۶۰؍ فیصد حصے پر ملک کے ۵؍ بڑے کاروباری خاندانوں کا قبضہ ہے۔ لبرلائزیشن کے بعد حالانکہ مسابقت  میں اضافہ ہوا ہے لیکن  یہ  مذکورہ ۵؍ کاروباری گھرانوں کو کا بہت کچھ بگاڑ نہیں سکا۔ یہ انکشاف ورلڈ بینک اکنامک ریویو میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۹۰۰؍ ملازمین کو زوم کال پر برطرف کرنے والے ہند نژاد سی ای او وشال گرگ خود بھی برطرف

’بزنس گروپس، کنسنٹریشن اینڈ مارکیٹ پاور اِن انڈیا‘ کے عنوان سے یہ تحقیقی رپورٹ ۱۰؍اگست کو ورلڈ بینک اکنامک ریویو میں شائع ہوئی۔ اس کے حوالہ سے ملک کے معروف اخبار ’دی ہندو‘ نے اپنی رپورٹ  میں بتایا ہے کہ  سائمن کمانڈر، ساؤل ایسٹرن، نوین جوزف تھامس اور ورون لنگینینی کی مشترکہ کاوشوں سے تیار کی گئی اس تحقیقی رپورٹ  کے مطابق ریلائنس، اڈانی، برلا، اوم پرکاش جندال اور ٹاٹا گروپس نے ۲۰۰۱ء  سے۲۰۲۰ء کے درمیان کاروباری آمدنی کےمجموعی طور پر۶۰؍ فیصد سے زیادہ حصے پر کنٹرول رکھا۔تحقیق میں اس صورتحال کا جائزہ دو اہم پیمانوں کے ذریعے لیا گیا، جن میں مختلف صنعتوں میں مارکیٹ  کے پھیلاؤ اور مارکیٹ شیئر جبکہ دوسرا کاروباری توسیع یا مختلف شعبوں میں تنوع پیدا کرکے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا شامل تھا۔

یہ بھی پڑھئے: گیس بحران سے نمٹنے کی تیاری، حکومت نے ایل پی جی پیداوار کی حد مقرر کردی

زیر گفتگو ۵؍خاندانی کاروباری گروپس میں ریلائنس اور اڈانی گروپ کا مجموعی آمدنی میں حصہ مسلسل کم از کم۲۰؍ فیصد رہا جبکہ جندل اور ٹاٹا گروپس کا حصہ بتدریج بڑھ کر  ۱۰؍  فیصد کے قریب ہی پہنچ سکا ہے۔ دوسری جانب برلا گروپ کا   مجموعی آمدنی میں حصہ مذکورہ دو دہائیوں میں مسلسل کم  ہوا ہے  اس کے باوجود یہ گروپ ٹاپ ۵؍ میں برقرار ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ لبرلائزیشن کے بعد مسابقت میں اضافہ کے نتیجے میں مارکیٹ کا ارتکاز کم تو ہوا  لیکن اس کے باوجود بڑے خاندانی کاروباری گروپس مارکیٹ پر غلبہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔محققین نے نشاندہی کی  ہےکہ اڈانی اور ریلائنس  کے تعلق سے یہ تاثر ہے کہ  وہ سیاستدانوں سے اپنے قریبی روابط کافائدہ اٹھاتے ہیں اور پالیسی نظام اور اس کی خامیوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے مواقع حاصل کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK