ہندوستانی سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ شیخ حسینہ کو پناہ دینا ہماری ذمہ داری تھی، وہ اس وقت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں،سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ اگست۲۰۲۴ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد ہندوستان میں مقیم ہیں۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 10:40 AM IST | Dhaka
ہندوستانی سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ شیخ حسینہ کو پناہ دینا ہماری ذمہ داری تھی، وہ اس وقت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں،سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ اگست۲۰۲۴ء میں حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد ہندوستان میں مقیم ہیں۔
بنگلہ دیش میں ہندوستانی ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے کہا ہے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے ہندوستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اگست۲۰۱۴ء میں اپنے ملک سے فرار ہونے کے بعد پناہ دے۔ترویدی نے کہا کہ ہندوستان کے پاس ’’شاید ہی کوئی چارہ تھا‘‘ کیونکہ ’’اس وقت، وہ (حسینہ) بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی لیگ کی لیڈر کو ہندوستانی فضائیہ یا فوج ہندوستان نہیں لائی تھی۔واضح رہے کہ وہ سنیچر کو ڈھاکہ میں بے آف بنگال کنورسیشن ۲۰۲۶ء میں بول رہے تھے جب انہوں نے یہ تبصرہ کیا۔ تاہم بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے اس تقریب کے پانچویں ایڈیشن میں افتتاحی کلمات ادا کئے،لیکن جب ترویدی نے یہ تبصرے کیے تو وہ موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال میں ووٹرس کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیلوں میں بھی مسلمان نشانے پر!
بعد ازاں ترویدی نے کہا، ’’اس وقت، وہ (حسینہ) بنگلہ دیش کی وزیر اعظم تھیں۔ ہمارے پاس اس پر شاید ہی کوئی چارہ تھا۔ پڑوسی کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم زندگی کی حقیقت کو قبول کریں کیونکہ حالات ایسے ہیں جہاں، بعض اوقات، آپ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے،ہمارے پاس کیا چارہ تھا؟ اگر آپ کہتے کہ نہیں، ہم قبول نہیں کریں گے، ہم لینڈنگ کی اجازت نہیں دیتے، تو چیزیں پتہ نہیں کیا ہوتیں۔‘‘
واضح رہے کہ حسینہ اگست ۲۰۲۴ء میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں اپنی حکومت کے اچانک خاتمے کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے خود ساختہ جلاوطنی میں ہندوستان میں مقیم ہیں۔ جبکہ ان کی حوالگی کا مطالبہ سب سے پہلے محمد یونس کی قیادت والی عبوری انتظامیہ نے کیا تھا، اور یہ مطالبہ رحمان کی قیادت والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) حکومت نے دہرایا ہے۔مزید برآں ہندوستان میں ان کی موجودگی دوطرفہ تعلقات میں ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جس میں اس سال کے شروع میں طارق رحمان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کچھ بہتری آئی ہے۔ تاہم، بنگلہ دیش خود ساختہ جلاوطنی میں رہتے ہوئے حسینہ کے انٹرویوز سے ناراض ہے، بشمول ایک حالیہ انٹرویو جس میں انہوں نے دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا جہاں انہیں سزائے موت کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر سے متاثرہ تمام الیکشن رد ہوں !‘‘
علاوہ ازیں ترویدی نے کہا کہ نئی دہلی ان کی واپسی کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کر سکتی، کیونکہ ان کی حوالگی کی درخواست قانونی عمل کے حصے کے طور پر زیر جائزہ ہے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم کی حوالگی کے لیے ڈھاکہ کی بار بار کی درخواستوں سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا، ’’کوئی بھی آپ کو ٹائم فریم نہیں دے سکتا (حسینہ کی واپسی پر)۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’بار بار، حکومت ہند نے اس کا جواب دیا ہے کہ ایک عمل ہے، اور یہ تشکیل شدہ قانونی عمل ہے۔‘‘