غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائی

Updated: April 25, 2022, 11:30 AM IST | Agency | Riyadh

سعودی عرب میں مشترکہ سیکوریٹی مہم کے تحت ایک ہفتے کے دوران ۱۳؍ ہزارسے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا،۸؍ ہزار ۷۵۲؍ اقامہ قانون، ۳؍ ہزار۱۹۷؍ سرحدی امن قانون اور ایک ہزار۶۶۶؍قانون محنت کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے

 These days, large-scale arrests of illegal immigrants are taking place in Saudi Arabia..Picture:INN
ان دنوں سعودی عرب میںغیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہورہی ہیں۔ ۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب میں جاری مشترکہ سیکوریٹی مہم کے تحت ایک ہفتے میں مزید۱۳؍ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائی کی جار ہی ہے جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو ملک بدر بھی کردیا گیا ہے۔  اہم بات ہے کہ  حراست میں لئے گئے غیر قانونی تارکین وطن  میں ہندوستان  سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ سب سے زیادہ ایتھوپیا اور یمن کے باشندوں کو حراست میں لیاگیا ہے۔ 
  اس سلسلے میں سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے وزارت داخلہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ۱۴؍ سے۲۰؍ اپریل۲۰۲۲ء تک مملکت کے تمام علاقوں میں مشترکہ سیکوریٹی آپریشن کیا گیا ہے۔اس دوران تمام  ریجنز سے۱۳؍ ہزار۶۱۵؍ غیرقانونی تارکین کوگرفتارکیا گیاجن میں سے۸؍ ہزار۷۵۲؍ اقامہ قانون، ۳؍ ہزار۱۹۷؍ سرحدی امن قانون اور ایک ہزار۶۶۶؍قانون محنت کی خلاف ورزی کے مرتکب  پائے گئے ۔
 رپورٹ کے مطابق مملکت میں دراندازی کی کوشش کرنے والے۱۰۶؍ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہےجن میں سے۴۷؍ فیصد یمن، ۴۸؍ فیصد ایتھوپیا اور ۵؍ فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں ہندوستانی غیر قانونی وطن بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں۴۹؍ ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے نکلنے کی کوشش کررہے تھے۔
  اسی طرح اقامہ، ملازمت اور سرحدی امن قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث۱۳؍ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ 
 واضح رہے کہ سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کیلئے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ جو شخص بھی غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے۱۵؍ برس قید اور۱۰؍ لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہوگی۔ غیرقانونی طریقے سے مملکت میں داخل ہونے والوں کو مختلف سہولتیں فراہم کرنے کی صورت میں گاڑی اور رہائش کیلئے استعمال ہونے والا مکان بھی ضبط کر لیا جائے گا اور خلاف ورزی کے ذمہ دار کی مقامی میڈیا میں تشہیر بھی کی جائے گی۔  اس سلسلے میں گزشتہ دنوں سعودی عرب کے مطابق ادارہ امن عامہ نے کہا تھا ہے کہ ایسے افراد جو غیرقانونی طورپرمقیم  کسی بھیغیر ملکی کو روزگار، رہائش یا نقل وحمل کی سہولت فراہم کرتے ہوئے گرفتارکئے جاتے ہیں ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جاتی ہے۔ اگرسہولت کارغیر ملکی ہوتو اسے سزا پوری کرنے کے بعد ہی ملک بدر کیا جا تا ہے اور اسے ہمیشہ کیلئےبلیک لسٹ کردیاجاتا ہے۔ وزرات داخلہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک حراست میں لئے گئے ۹۰؍ ہزار ۷۵۶؍غیر قانونی تارکین کیخلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جن میں سے۸۶؍ہزار ۴۱۳؍ مرد اور ۴؍ ہزار۳۴۳؍ خواتین ہیں۔
  وزارت کے مطابق۷۹؍ ہزار۷۸؍ افراد کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ انہیں دستاویزات حاصل کرنے کیلئے سفارتخانوں سے رجوع کرنے کا موقع دیا گیا ہے جبکہ۲۱؍ ہزار ۷۱؍ افراد کے سفر کی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ ۱۱؍ ہزار۶۴۷؍ کو مملکت سے بے دخل کیا گیا ہے۔    عرب نیوز کے مطابق سعودی حکومت نے ٹول فری نمبر بھی جاری کئے ہیں ۔ ریاض اور مکہ ریجن میں نظرآنے والے غیر قانونی تارکین وطن  کی شکایت۹۱۱؍ پر کی جاسکتی ہے۔ دیگر ریجنز میں کسی کی مشتبہ سرگرمی کی  شکایت کیلئے ٹول فری نمبر ۹۹۹؍ اور ۹۹۶؍ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔  مہم کا مقصد جرائم کی روک تھام کرنا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK