سعودی عرب کو بڑا اعزاز مل گیا ہے اور وہ دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب خطے میں سفید اسٹرابری کی پیداوار کرنے والا پہلا اور امریکہ اور جاپان کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 8:05 PM IST | Riyadh
سعودی عرب کو بڑا اعزاز مل گیا ہے اور وہ دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب خطے میں سفید اسٹرابری کی پیداوار کرنے والا پہلا اور امریکہ اور جاپان کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے۔
سعودی عرب کو بڑا اعزاز مل گیا ہے اور وہ دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب خطے میں سفید اسٹرابری کی پیداوار کرنے والا پہلا اور امریکہ اور جاپان کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے۔
گزشتہ روز حائل ریجن کے گورنر شہزادہ عبدالعزیز بن سعد بن عبدالعزیز نے مملکت میں پہلی مرتبہ سفید اسٹرابیری کی پیداوار کا افتتاح کیا۔ اس تقریب میں شہزادہ سعد بن نواف بن سعد، شہزادہ سعود بن فہد بن جلوی، شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن جلوی، پارک کے مالک حمود بن حمد التمیمی اور متعدد سرکاری حکام نے شرکت کی۔ گورنر شہزادہ عبدالعزیز بن سعد بن عبدالعزیز نے حائل اسٹرابیری پارک کے ساتویں سیزن کا بھی افتتاح کیا اور اس موقع پر منعقدہ نمائش کا دورہ کیا۔
سفید اسٹرابیری انناس کے ذائقے والی اقسام، جام کی ترکیبیں، وائٹ سول کی قسم کی تفصیل، کیا مفید ہے، جائزے ۔انہوں نے زرعی شعبے کے لیے دانشمند قیادت کی حمایت کو اجاگر کیا جو غذائی تحفظ کے بنیادی ستونوں میں سے ایک اور قومی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ گورنر حائل نے اس بات پر زور دیا کہ حائل ریجن کا شمار مملکت کی اہم ترین زرعی علاقوں میں ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ اسٹرابری غذائیت سے بھرپور پھل ہے اور دنیا بھر میں اس کی کاشت سرخ رنگ میں کی جاتی ہے۔ یہ پھل کے طور پر کھائے جانے کے ساتھ جوس، شیک، سوئٹ ڈشز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دھرمیندر ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات کے حقدار تھے:شوبھا ڈے
یوپی میں آلوپیداوارکی صورتحال مستحکم
ہندوستان میں آلو پیدا کرنے والی اہم ریاستوں میں صفِ اول میں شامل اترپردیش میں گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی آلو کی اچھی فصل ہونے کا امکان ہے۔ اس کے پیشِ نظر آلو کی ذخیرہ اندوزی (اسٹوریج) کے لیے مناسب انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے جمعہ کے روز بتایا کہ ریاست میں چھ لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے پر آلو کی کاشت کی جاتی ہے۔ پیداوار کی کثرت کی وجہ سے اترپردیش سے ملک کی دیگر ریاستوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی آلو سپلائی کیا جاتا ہے۔ منڈیوں میں نئے آلو کی آمد تقریباً وسط دسمبر سے شروع ہو جاتی ہے۔ نئے آلو کا چھلکا مکمل طور پر پختہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں ہوتا اور اسے بنیادی طور پر کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ منڈیوں میں نئے آلو کی آمد بڑھنے سے طلب اور رسد کے اصول کے مطابق بازار کی قیمتوں پر اثر پڑنا فطری عمل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رانچی میں ویمنز ہاکی لیگ کے نئے چیمپئن کی تاج پوشی ہوگی
حکام نے بتایا کہ ریاست میں اس وقت کل ۲۲۴۳؍ نجی کولڈ اسٹوریج فعال ہیں، جن کی کل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ۱۹۲؍ لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ سال ۲۰۲۵؍ میں تقریباً ۱۵۹؍ لاکھ میٹرک ٹن آلو اسٹور کیا گیا تھا، جبکہ تقریباً ۳۳؍ لاکھ میٹرک ٹن کی گنجائش باقی رہی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست میں آلو کی ذخیرہ اندوزی کے لیے کافی سہولیات دستیاب ہیں۔