وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف، صورتحال سے نمٹنے کیلئے مملکت نےفرانس ، برطانیہ ، مصراور پاکستان سے مدد بھی طلب کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 1:37 PM IST | Agency | Riyadh
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف، صورتحال سے نمٹنے کیلئے مملکت نےفرانس ، برطانیہ ، مصراور پاکستان سے مدد بھی طلب کی ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان سعودی عرب کو میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت کا سامنا ہے جس سے اہم تنصیبات کے تحفظ اور مزید حملوں کو روکنے کی مملکت کی صلاحیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، دفاعی میزائلوں کی قلت سعودی عرب کی حملوں کو روکنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے اور مملکت کو ستمبر کے وسط سے ہی اس بحران کا سامنا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے فرانس، برطانیہ، مصر اور پاکستان سمیت علاقائی اور مغربی اتحادیوں سے میزائل حملوں کے خلاف دفاع میں مدد طلب کی ہے۔پیر کو سعودی عرب کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک تازہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور۱۱؍ دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں باغیوں کے زیر قبضہ ہوائی اڈے پر فضائی حملے کی اطلاع دی تھی۔
دفاعی میزائلوں کی قلت کا مسئلہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ ۶؍ ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکہ کے پاس بھی میزائلوں کو روکنے والے دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جس سے پہلے ہی دباؤ کے شکار دفاعی نظام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔ مسلسل حملوں نے سعودی فضائی دفاعی نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے اور شہری تنصیبات و فضائی سفر کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ دفاعی میزائلوں کی مبینہ قلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مملکت پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں۱۰؍ اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ بھی شامل ہے جس میں کم از کم۱۳؍ افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوئے تھے۔حوثیوں کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں، کاروباری اداروں اور مسافروں کو سعودی ہوائی اڈوں پر پروازیں چلانے کے خلاف انتباہ دوہرایا اور دعویٰ کیا کہ یہ ہوائی اڈے محفوظ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی: ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا تازہ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی
سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ہم دنیا بھر کی تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور مسافروں کو دوبارہ خبردار کرتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں کیونکہ یہ محفوظ نہیں ہیں۔ البتہ مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود اس سے مستثنیٰ ہیں۔ریاض نے گزشتہ ہفتے یمنی حکومتی فورسز کی مدد کے لیے بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا، تاہم حوثی باغیوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور سعودی سرزمین پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ہوائی اڈے پر حملہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شامل تھا، جس کے بعد مملکت کی قیادت پر جوابی کارروائی کیلئے دباؤ بڑھ گیا ہے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر دفاع خالد بن سلمان کیلئے حوثیوں سے نمٹنے کے اختیارات محدود ہوتے جا رہے ہیں ۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فوجی کارروائیوں اور مذاکرات کے ذریعے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کے باوجود یہ گروپ یمن کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول مستحکم کر چکا ہے اور طویل فاصلے تک بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکا ہے۔سعودی عرب یمنی حکومتی فورسیز کو فضائی مدد فراہم کرتے ہوئے اپنے فوجیوں کو بڑے پیمانے پر یمن کے اندر تعینات کرنے سے گریز کرتا رہا ہے۔ زمینی کارروائی کی صورت میں مملکت ایک طویل اور مہنگی جنگ میں الجھ سکتی ہے۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ بعض نئے میزائل زیادہ رفتار سے پرواز کرتے ہیں اور حرارت کا سراغ لگانے والے نظام استعمال کرتے ہیںجو حرارت خارج کرنے والے اہداف کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ایسے ہتھیار استعمال کیے گئے تھے یا نہیں۔
امریکہ سعودی کی انٹیلی جنس مدد کررہاہے
سعودی عرب نے حوثیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے بین الاقوامی حمایت بھی طلب کی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، فرانس، برطانیہ اور پاکستان نے مدد فراہم کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ ترکی بھی تعاون کے امکان پر غور کر رہا ہے۔سعودی عرب کے اہم اتحادی امریکہ نے حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کی حمایت نہیں کی۔ اس کے بجائے واشنگٹن نے ایک نئے مشترکہ کمانڈ کے تحت انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے کیلئے۱۰۰؍سے زیادہ فوجی مشیر تعینات کئے ہیں۔امریکہ نے گزشتہ سال حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھاجس کے نتیجے میں امریکی جہازوں کو آبنائے باب المندب سے دوبارہ گزرنے کی اجازت ملی۔ یہی وجہ ہےکہ امریکہ اس تنازع میں سعودی عرب کی عسکری مدد نہیںکررہا ہے۔محمد بن سلمان امریکہ سے فوجی مدد کی درخواست کرچکے ہیںمگر امریکی اقدامات انٹیلی جنس تعاون تک محدود ہیں۔