Updated: October 12, 2026, 2:57 PM IST
| Riyadh
یمن کے حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور فضائی سفر کے نظام کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے، جبکہ ایک ہفتے کے دوران ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی ہے۔ حملوں کے پیشِ نظر امریکہ، برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور فضائی سفر میں خلل مزید بڑھ گیا ہے۔
یمن کےحوثی باغیوں کی جانب سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کئے جانے کے ایک روز بعد، اتوار کو ایک اور حملہ کیا گیا، جس سے سعودی عرب کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ جمعہ، ۱۰؍ اکتوبر کو ہونے والے حملے میں ۱۳؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ۱۱؍ اکتوبر کو ہونے والا حملہ چند ہی دنوں کے اندر سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈے پر چوتھا حملہ تھا۔ ریاض کا یہ ہوائی اڈہ تقریباً۸۰؍ لاکھ آبادی والے شہر کو فضائی سفری سہولت فراہم کرتا ہے۔ سعودی شہری ہوا بازی کے حکام کے مطابق، اتوار کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور ۱۱؍زخمی ہوئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اس طرح ایک ہفتے کے دوران ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد۱۸؍ ہوگئی ہے۔
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر مسلسل حملوں نے مملکت کی سلامتی سے متعلق نئے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اتوار سے بین الاقوامی توانائی تنظیم ڈبلیو پی سی انرجی (WPC Energy) کی پانچ روزہ کانفرنس شروع ہوئی۔ سعودی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ یہ عوامی تقریب ریاض ایئرپورٹ سے تقریباً۱۰؍ کلومیٹر دور واقع ایک کنونشن سینٹر میں منعقد کی جانی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں، نوعمروں میں موٹاپا۱۹۹۰ء سےچار گنا بڑھا، سترہ کروڑافراد متاثر: ڈبلیو ایچ او
ریاض ایئرپورٹ حملے میں ایک ہندوستانی شہری کی موت
سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے نے اتوار کو تصدیق کی کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر۱۰؍ اکتوبر کو ہونے والے حملے میں زخمی ایک ہندوستانی شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ریاض حملے میں متاثر ہونے والے ہندوستانی شہریوں کی حالت کے بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے قونصل خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سفارت خانے کے افسران نے ان تمام اسپتالوں کا دورہ کیا ہے جہاں حملے میں زخمی ہندوستانی شہریوں کو داخل کرایا گیا ہے۔ قونصل خانے کے مطابق، ’’جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا، آج ایک ہندوستانی شہری کی افسوس ناک موت ہوگئی۔ تین افراد انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں، تاہم ان کی حالت مستحکم ہے۔ دو دیگر افراد عام وارڈوں میں داخل ہیں، جبکہ باقی زخمیوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیمسٹری کا نوبیل انعام ہنری کاگن، کینسو سوئی کے نام، مالیکیولز کا صدیوں پرانا راز حل
حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکی، ’ابھی بدترین وقت آنا باقی ہے‘
یہ تازہ پیش رفت حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر کے دوران سنیچر جو ریاض ایئرپورٹ پر کئے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے علاوہ حوثیوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ملک کے تیسرے بڑے ہوائی اڈے دمام اور تیل کی بڑی کمپنی سعودی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ اتوار کے حملوں سے قبل بھی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دہرائی تھیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں اہم تزویراتی خطے پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے یمن میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، حوثی باغیوں نے سعودی عرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا، ’’ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری وارننگ کو سنجیدگی سے لیں۔ کسی بھی حملے کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیند سے محروم جاپان نے بہترین جھپکی لینے کو مقابلے میں بدل دیا
حوثی حملوں کے بعد متعدد ممالک کا شہریوں کو سعودی عرب کا سفر نہ کرنے کا مشورہ
یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر مسلسل حملوں کے بعد امریکہ، برطانیہ، کنیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے سفر سے گریز کرنے یا سفری منصوبوں پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے پیر کو نئی سفری ہدایات جاری کیں، جس کے بعد ان ممالک کی فہرست مزید طویل ہوگئی جنہوں نے سعودی عرب میں سیکوریٹی خطرات کے پیش نظر اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔ آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ نے شہریوں کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے جانے سے گریز کرنے اور سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کے سفر پر بھی نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا۔ نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے اور نجران، جازان اور عسیر کے علاقوں کا سفر کسی بھی مقصد کیلئے نہ کرنے، جبکہ سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھئے: روس: سائبیریا میں طاعون کا اثر، ایک کی موت، سیکڑوں افراد کو کوارنٹائن کیا گیا
امریکی سفارت خانے نے اتوار کو ایران اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر شہریوں کو سعودی عرب کے سفر پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا۔ کنیڈانے بھی سعودی عرب کے کسی بھی علاقے کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی۔ جنوبی کوریا نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو ضروری کام نہ ہونے کی صورت میں ملک چھوڑنے اور وہاں جانے کا ارادہ رکھنے والوں کو سفر منسوخ کرنے کا مشورہ دیا۔ برطانیہ نے جدہ اور دمام سمیت متعدد مقامات اور مدینہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ دیگر ہوائی اڈوں کے سفر سے، سوائے ضروری وجوہات کے، گریز کرنے کی ہدایت کی۔ یہ سفری انتباہات ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے متعدد حملوں کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔
حملوں کے بعد ریاض کا شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور دمام کا شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند رہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی سفر متاثر ہوا۔ جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی پروازوں کا نظام متاثر ہوا۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار۲۴؍ کے مطابق اتوار کو جدہ ایئرپورٹ پر ۱۵۰؍ سے زیادہ پروازیں منسوخ اور۳۷۴؍ تاخیر کا شکار ہوئیں۔