Updated: March 28, 2026, 7:05 PM IST
| Riyadh
ایران جنگ اب خطے کے دیگر ممالک تک پھیلتی نظر آ رہی ہے۔ سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ہوا، جبکہ یمن سے اسرائیل پر میزائل داغا گیا۔ اسی دوران حوثی باغیوں نے واضح کیا ہے کہ اگر مخصوص ’’سرخ لکیریں‘‘ عبور کی گئیں تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے، جس سے علاقائی جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
سعودی عربیہ میں امریکی فوجی اڈے کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
(۱) ایرانی میزائل حملہ، سعودی اڈے پر ۱۲؍ امریکی فوجی زخمی
رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی میزائل نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ۱۲؍ امریکی فوجی زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق حملے میں متعدد جیٹ طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ امریکی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی گئی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ اب خلیجی ممالک تک براہ راست پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملوں سے لبنان کو انسانی تباہی کا خطرہ
(۲) اسرائیل کا دعویٰ، یمن سے داغا گیا میزائل ناکام بنا دیا
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’میزائل کو کامیابی سے روک لیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘‘ رپورٹس کے مطابق میزائل داغے جانے کے بعد جنوبی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے حوثی گروپ نے پہلے ہی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے دائرہ کار میں مزید توسیع ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: جنگ کے دوران سائرن کا غلط استعمال، یہودی مفت اشیاء لے کر فرار
(۳) حوثیوں کی وارننگ، تین ’’سرخ لکیریں‘‘ عبور ہوئیں تو جنگ میں شامل ہوں گے
یمن کے حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر تین مخصوص ’’سرخ لکیریں‘‘ عبور کی گئیں تو وہ جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس صورت میں کارروائی کریں گے اگر نئے اتحادی ایران کے خلاف شامل ہوئے، بحیرہ احمر کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا اور ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے بڑھے۔ حوثیوں نے کہا کہ ’’بحیرہ احمر کو دشمن کارروائیوں کیلئے استعمال ہونے نہیں دیں گے۔‘‘ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے اور خطے میں نیا محاذ کھل سکتا ہے۔